1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان سربراہ کے بیٹے کا خودکش حملہ

طالبان کے رہنما ہیبت اللہ آخوندزادہ کے بیٹے نے افغانستان کے جنوبی صوبہ ہیلمند میں ایک خودکش حملہ کیا ہے۔ اس بات کی تصدیق طالبان کے ایک ترجمان نے آج ہفتے کے روز کر دی ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا، ’’جمعرات کی صبح عبدالرحمان خالد نے دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی صوبہ ہلمند کے ضلع گریشک میں موجود افغان سکیورٹی فورسز کے ایک بڑے فوجی اڈے پر دھماکے سے اُڑا دی۔‘‘

طالبان کے ایک ترجمان قاری یوسف احمدی نے مولوی ہیبت اللہ آخوندزادہ کے بیٹے کی ایک تصویر ٹوئیٹ کی ہے اور ساتھ لکھا ہے، ’’گریشک کی لڑائی میں امیر المومنین آخوندزادہ کے بیٹے خالد کی شہادت اور قربانی نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ ایمان کی جنگ ہے نہ کہ طاقت اور پیسے کی۔‘‘

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق خالد مولوی ہیبت اللہ آخوندزادہ کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا اور وہ طالبان کے خودکش اسکواڈ میں شامل تھا اور گزشتہ تین برس سے اپنی باری کے انتظار میں تھا۔ مجاہد نے ڈی پی اے کو بتایا، ’’گریشک میں ہونے والے تین کار بم دھماکوں میں افغان فورسز کے 100 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے۔‘‘ تاہم جب پوچھا گیا کہ خالد کے خودکش حملے میں کتنے افراد ہلاک ہوئے تو مجاہد کے پاس اس کا جواب نہیں تھا۔

افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند کا 80 فیصد علاقہ طالبان کے کنٹرول میں ہے اور وہ اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ اس پورے صوبے پر قبضہ کر لیں۔ ڈی پی اے کے مطابق طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ آخوندزادہ کے بیٹے کی طرف سے اس خودکش حملے کے سبب لڑائی میں شدت متوقع ہے۔

Afghanistan Talibanführer Mullah Haibatullah (Imago/Xinhua)

’’طالبان کے سربراہ مولوی ہیبت اللہ آخوندزادہ کا سب سے چھوٹا بیٹا خالد طالبان کے خودکش اسکواڈ میں شامل تھا اور گزشتہ تین برس سے اپنی باری کے انتظار میں تھا‘‘

قبل ازیں صوبے ہلمند کے پولیس سربراہ کی طرف سے بتایا گیا کہ غلطی سے کیے گئے ایک امریکی فضائی حملے میں کم از کم 16 افغان پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاکتوں کا پتا اس حملے کے بعد تباہ ہونے والی عمارت کے جائزے سے چلا۔

امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بھی اس حملے کی تصدیق کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ علاقے میں فضائی کارروائی اصل میں افغان فورسز کی مدد کے لیے طالبان کے خلاف کی گئی تھی۔

DW.COM