1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان سربراہ ملا منصور کے زخمی ہونے کی متضاد اطلاعات

افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک میٹنگ کے دوران تلخ کلامی کے بعد ہونے والی لڑائی کے نتیجے میں افغان طالبان کے نئے سربراہ ملا منصور زخمی ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب طالبان کے ایک ترجمان نے اس کی تردید کی ہے۔

افغان نائب صدر کے ترجمان سلطان فیضی نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کے نئے سربراہ ملا منصور فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کا یہ واقعہ طالبان کی ایک میٹینگ کے دوران تلخ کلامی کے بعد پیش آیا۔ افغان حکام کے مطابق طالبان تحریک واضح طور پر اختلافات کی شکار ہو چکی ہے اور طالبان کا یہ اجلاس پاکستان میں جاری تھا۔

سلطان فیضی کا کہنا تھا، ’’منصور شدید زخمی ہیں۔ ان کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا تھا۔ ہم یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ بچ پائیں گے یا نہیں۔‘‘ اسی طرح ایک افغان خفیہ اہلکار نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے جبکہ طالبان کے بھی ایک ذریعے نے نیوز ایجنسی اے یف پی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اس خبر کی تصدیق کر دی ہے۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے کہ لڑائی یا فائرنگ کا کوئی ایسا واقعہ پیش بھی آیا ہے۔ قبل ازیں طالبان کے سابق سربراہ ملا عمر کے انتقال کی خبروں کے بعد اکتیس جولائی کے روز ملا منصور اختر کو طالبان کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ اس اعلان کے فوری بعد طالبان کے متعدد گروپوں نے ملا منصور کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملا منصور کو نیا امیر چننے کا عمل غیر واضح اور غیر منصفانہ تھا۔

نیوز ایجنسی نے ملا منصور کے ایک قریبی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بدھ کے روز پیش آنے والے فائرنگ کے اس واقعے میں چار افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے۔ اس ذریعے کا کہنا تھا، ’’زخمیوں میں ملا منصور بھی شامل ہیں لیکن وہ کس حد تک زخمی ہوئے ہیں، یہ ابھی تک غیر واضح ہے۔‘‘

طالبان کے ایک اور ساتھی نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس خبر کی تصدیق کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ خفیہ اجلاس عبداللہ سرحدی کے گھر پر جاری تھا، جو ملا منصور گروپ کا کمانڈر ہے اور گوانتاناموبے جیل میں قید بھی رہ چکا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ عبداللہ سرحدی کو امریکا نے رہا کر دیا تھا، جس کے بعد انہیں پاکستان میں گرفتار کیا گیا اور سن دو ہزار بارہ میں رہا کیا گیا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران کچھ نکات پر اختلافات تھے، جن کے بعد تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور سرحدی نے فائرنگ کرنا شروع کر دی۔ اس کے جواب میں دوسری جانب سے بھی فائرنگ کی گئی۔