1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان رہنما بات چیت کے خواہشمند ہیں، ہالبروک

افغانستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری جنگ کا ایک اور پہلو سامنے آنے لگا ہے اور وہ متحارب گروپوں کا امریکہ کی حمایت یافتہ کابل حکومت کے ساتھ بات چیت کا عمل ہے۔ افغان صدر اس سلسلے کو بہتر پیش رفت خیال کرتے ہیں۔

default

رچرڈ ہالبروک

پاکستان اور افغانستان کے لئے اوباما انتظامیہ کے خصوصی مندوب رچرڈ ہالبروک نے امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این این کے ایک پروگرام میں بات چیت میں کہا ہے کہ کابل حکومت کے ساتھ بات چیت کے عمل میں انتہاپسند تنظیم طالبان کے کئی نمایاں رہنما بھی شرکت کے متمنی ہیں۔ ہالبروک کے خیال میں سردست طالبان لیڈر امکانی طور پر رابطہ بحال کر کے صورت حال کو موضوع بحث لانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ افغانستان میں انتہاپسندوں کے خلاف جاری جنگ کو دسواں سال ہے۔

Hamid Karzai

افغان صدر حامد کرزئی

امریکی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان کی بات چیت میں دلچسپی کی بڑی وجہ یقینی طور پر نیٹو کی آئی سیف دستوں کے خصوصی آپریشن بھی ہو سکتے ہیں۔ ان میں گزشتہ دنوں سے شدت دیکھی جا رہی ہے۔ ان مبصرین کے مطابق طالبان بات چیت کے عمل کا عندیہ دے کر تاخیری حربہ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ مبصرین کے خیال کی تائید ہالبروک بھی کرتے ہیں اور ان کے مطابق یہ اس دباؤ کا نتیجہ ہے جو جنرل پیٹریاس کی قیادت میں شروع کثیر الجہتی آپریشن کا نتیجہ ہے۔ ہالبروک کا خیال اس بات کے حق میں ہے کہ واشنگٹن حکومت افغان صدر حامد کرزئی کی بات چیت کے عمل کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

دوسری جانب نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان لیڈروں کو ان کے ٹھکانوں سے محفوظ انداز میں باہر نکل کر پاکستان یا کابل تک پہنچانے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔ افغان جنگ پر گہری نگاہ رکھنے والے اس عمل کو جنرل پیٹریاس کی اس حکمت عملی کا حصہ سمجھتے ہیں جو فائٹ اور ٹاک پر مبنی ہے۔ امریکہ نے طالبان ٹھکانوں پر ڈرون حملوں میں اضافہ کر رکھا ہے جو طالبان قیادت کے لئے خاصی پریشانی کا باعث ہے۔

David Petraeus NATO US Force Afghanistan

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس

افغان صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے رچرڈ ہالبروک کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کوئی ہوچی منہ ہے اور نہ ہی سلابودان میلوسووچ اور کوئی فلسطینی انتظامیہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ تمام بکھرے ہوئے گروپ ہیں جن میں میں حقانی نیٹ ورک ، ملاعمر، پاکستانی طالبان، حزب اسلامی، لشکر طیبہ اور القاعدہ ہیں۔ ہالبروک کے مطابق القاعدہ کے علاوہ بقیہ گروپوں سے بات چیت ممکن ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ جنگ میں فوجی کارروائی اپنی جگہ لیکن سیاسی عنصر کی موجودگی بھی اہم ہے اور امریکہ اس کا ہر پہلو سے جائزہ لے رہا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس