1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد بھی لڑکیوں کے لیے تعلیم مشکل

افغانستان پر سن 2001ء میں امریکی حملے اور طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد لڑکیوں اور خواتین کے حقوق کو دستوری تحفظ تو دیا گیا ہے، تاہم اب بھی بہت سی لڑکیوں کے لیے تعلیم کا حصول ایک مشکل معاملہ ہے۔

سن 1996 تا 2001ء تک افغانستان پر طالبان کی حکومت کے دوران لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد تھی۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد اس سلسلے میں خاصی پیش رفت کے باوجود صورت حال بہتری سے کوسوں دور ہے۔

افغان وزارت تعلیم، یونیسکو اور یونیسیف کے اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کردہ یہ حقائق نامہ دیکھیے:

O افغانستان میں اس وقت تین اعشاریہ تین ملین لڑکیاں اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں، تاہم اتنی ہی تعداد ان بچوں کی ہے، جو اسکول نہیں جا پا رہے اور ان میں اکثریت لڑکیوں کی ہے۔

O شہری علاقوں میں لڑکیوں کی نصف تعداد اسکول جا رہی ہے، جب کہ دیہی علاقوں میں یہ تناسب صرف 28 فیصد ہے۔

Afghanistan Schule in Kandahar - Lehrer Mohammad Esa Kakar

افغانستان میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی اسکولوں تک رسائی زیادہ مشکل ہے

O پرائمری تعلیم کے شعبے میں جنسی بنیاد پر عدم مساوات کے اعتبار سے افغانستان بلند ترین سطح پر ہے، جہاں ہر سو لڑکوں کے مقابلے میں صرف 70 لڑکیاں اسکول جاتی ہیں۔ ثانوی تعلیم میں یہی شرح سو لڑکوں کے مقابلے میں 55 اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سو لڑکوں کے مقابلے میں صرف 33 فیصد بنتی ہے۔

O دیہی علاقوں میں غریب گھرانوں کی صرف چار فیصد لڑکیاں پرائمری تعلیم مکمل کر پاتی ہیں۔

O ثقافتی مسائل بشمول خواتین اساتذہ کی کمی اور کم عمری میں شادیاں وہ وجوہات ہیں، جن کی بنا پر لڑکیاں اسکول نہیں جا سکتیں۔

O افغانستان میں موجود ایک لاکھ ستاسی ہزار اساتذہ میں خواتین اساتذہ کی تعداد ایک تہائی سے بھی کم ہے، جب کہ ہر پانچویں ضلع میں ایک بھی خاتون استاد موجود نہیں۔

O افغانستان میں 40 فیصد لڑکیاں اپنی 18ویں سالگرہ سے قبل رشتہ ازدواج میں بندھ جاتی ہیں، جب کہ 15 فیصد وہ لڑکیاں ہیں، جن کی شادی ان کی 15ویں سالگرہ سے بھی قبل کر دی جاتی ہے۔

O طالبان کے دور حکومت میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کی وجہ سے اس وقت 20 سے لے کر 29 برس تک کی عمر کی خواتین میں سے زیادہ تر ایسی ہیں، جو کبھی اسکول نہیں گئیں۔ 20 تا 24 برس کی عمر کی خواتین کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے، جنہوں نے اپنی زندگی میں صرف ایک مہینہ ہی اسکول میں گزارا۔

O افغانستان میں بالغ خواتین کا صرف 12 فیصد خواندہ ہے جب کہ دیہی علاقوں میں یہ شرح انتہائی کم ہے۔

O سن 2012ء میں مجموعی طور پر 553 اسکول سلامتی کی خراب صورت حال کی وجہ سے بند رہے۔ ان میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی تعداد دو لاکھ 75 ہزار کے قریب تھی۔

O لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف کارروائیاں کرنے والے عسکریت پسند اب بھی لڑکیوں کے اسکولوں پر حملوں میں ملوث ہیں اور وہ اسکولوں میں بڑے پیمانے پر زہر دینے اور تیزاب سے حملے کرنے کے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں۔