طالبان، حمید گل اور ان کی میراث | حالات حاضرہ | DW | 16.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان، حمید گل اور ان کی میراث

پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل پاکستان میں اسلامی نظریات کے ماننے والوں کے رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔ طالبان کے ’گاڈ فادر‘ تصور کیے جانے والے گل اپنے پیچھے ایک ’خطرناک میراث‘ چھوڑ گئے ہیں۔

پاکستان میں ترقی پسند اور لبرل حلقوں کا کہنا ہے کہ حمید گل مرے نہیں ہیں بلکہ وہ متعدد جہادی تنظیموں کے روپ میں زندہ رہیں گے، جن میں طالبان بھی شامل ہیں۔ ایسے حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حمید گل کی میراث اس وقت تک زندہ رہے گی، جب تک پاکستانی فوج بھارت مخالفانہ پالیسیوں کا دفاع کرے گی اور وہ افغانستان کے داخلی امور میں مداخلت کی کوشش کرتی رہے گی۔

سابق سوویت یونین کے خلاف جنگ کی حمایت اور بعد ازاں طالبان کی حمایت کی وجہ سے جنرل حمید گل نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کے کچھ حلقوں میں بھی ایک متنازعہ شخصیت تھے۔ حمید گل نے اگرچہ طالبان تحریک کی بنیاد تو نہیں ڈالی تھی لیکن وہ اس کو فعال بنانے میں انتہائی سرگرم رہے تھے۔ اسی تناظر میں افغانستان میں گل کو ’افغانوں کو زبح کرنے والا‘ بھی قرار دیا جاتا تھا۔

پاکستان اور افغانستان میں لبرل حلقوں نے گو حمید گل کے انتقال پر خاص غم کا اظہار نہیں کیا ہے لیکن پاکستان میں بہت سے افراد ان کی موت پر سوگ منا رہے ہیں۔ حمید گل نہ صرف آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے طور پرفرائض سر انجام دے چکے تھے بلکہ اس کے ساتھ ہی وہ قدامت پسند معاشرے میں دائیں بازو کے صحافیوں، دینی مدرسوں کے مذہبی علماء اور ان میں زیر تعلیم طالب علموں میں ایک رہنما کے طور پر بھی دیکھے جاتے تھے۔ پاکستانی فوج میں بھی ایک طاقتور حلقہ ان کا حامی تھا۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم تحفظ انسانی حقوق کے کارکن ارشد محمود نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمید گل افغان جنگ کے دوران سابق فوجی آمر ضیا الحق کے مقابلے میں زیادہ مشہور نہیں تھے لیکن ان کا اس تمام معاملے میں کردار انتہائی تباہ کن رہا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’حمید گل افغانستان کو تباہ کرنے کے ذمہ دار ہیں اور پاکستان میں بھی ان کی تعلیمات کے انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ افغان عوام ان سے نفرت کرتے ہیں، جو درست ہے۔‘‘

کشمیر کا تنازعہ

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اسلام پسندانہ بغاوت کو ہوا دینے میں جنرل حمید گل کا کردار بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ نئی دہلی حکومت یہ الزام بھی عائد کرتی ہے کہ جنرل حمید گل نے 1989ء میں بطور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی افغان جنگ میں استعمال ہونے والے اسلحے اور جنگجوؤں کو سری نگر پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد گل ایک سکیورٹی تجزیہ نگار بن گئے اور وہ اس دوران مقامی ٹیلی وژن نیوز چینلز پر طالبان اور کشمیری جنگجوؤں کا دفاع کرتے ہوئے دکھائی بھی دیے۔ اس دوران پاکستان میں اسلامی پارٹیاں گل کو اپنے مغرب مخالف جلسوں و جلوسوں میں بھی مدعو کرتی رہیں۔

برطانیہ میں مقیم انسداد دہشت گردی امور کے ماہر غضنفر حسین نے اپنے فیس بک اسٹیٹس میں لکھا، ’’دنیا میں خون خرابہ اور انتشار پھیلانے والا ایک شخص مر گیا ہے لیکن اس شخص کی طرف سے پاکستان کو دہشت گردوں کی جنت بنانے کی کوشش کی روایت جاری رہے گی۔‘‘

حمید گل اور طالبان

جنرل حمید گل 1987 ء تا 1989 ء آئی ایس آئی کے سربراہ رہے۔ یہ وہی دور تھا جب امریکی تعاون سے سابق سوویت یونین کے خلاف شروع ہونے والا ’افغان جہاد‘ اپنے اختتامی مراحل میں تھا۔ افغان جنگ میں مجاہدین کی تاریخی جیت میں حمید گل کے کردار پر اسلام پسند جنگجو انہیں ایک ’ہیرو‘ قرار دیتے تھے۔ تاہم جب اس جنگ کے بعد امریکا ایک دم منظر نامے سے غائب ہوا تو حمید گل اور آئی ایس آئی نے افغانستان میں ایک ایسی حکومت تشکیل دینے کی کوشش شروع کر دی جو پاکستان کے زیراثر ہو۔

افغان جنگ کے بعد جب افغانستان میں ایک نئی خانہ جنگی شروع ہوئی تو اس دوران آئی ایس آئی نے وہاں متعدد اسلام پسند جنگجو گروہوں کی معاونت شروع کر دی تاکہ وہ روس اور بھارت نواز گروہوں کو شکست دے سکیں۔ لندن میں مقیم پاکستانی صحافی اور محقق فاروق سلہریا نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’افغانستان سے سوویت فورسز کے انخلاء کے بعد گل اور آئی ایس آئی نے وہاں کسی حکومت کو قائم نہ ہونے دیا۔ یہ افغان تاریخ کا ایک تباہ کن دور تھا، جس کے منصوبہ ساز حمید گل تھے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی، جب طالبان ایک طاقت بن کر ابھرے، ’’اس دور میں افغان عوام کے پاس طالبان کو خوش آمدید کہنے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہ بچا تھا۔‘‘

فاروق سلہریا نے ماضی کو کھنگالتے ہوئے مزید بتایا کہ افغان طالبان کی تحریک حمید گل کی پیداوار نہیں تھی، ’’حمید گل اس دور میں سابق صدر نجیب اللہ اور برہان الدین ربانی کے مقابلے میں ’وار لارڈ‘ گلبدین حکمت یار کی حمایت کر رہے تھے۔ گل نے طالبان کی حمایت اس وقت شروع کی جب ان جنگجوؤں کی تحریک مضبوط ہوئی۔‘‘ سلہریا کے مطابق طالبان کو بنانے والوں میں دراصل سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور اس وقت ان کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر تھے۔

’طالبان ہمارے لوگ ہیں‘

جنرل حمید گل نوے کی دہائی میں سیاست میں بھی سرگرم ہو گئے تھے۔ ان کے اپنے سابقہ ادارے کے ساتھ تعلقات اس وقت خراب ہوئے، جب 2001ء میں نائن الیون کے سانحے کے بعد اس وقت کے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے طالبان کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ سلہریا کہتے ہیں، ’’طالبان کے خلاف پاکستان کا امریکا کے ساتھ اتحاد متعدد سابق جرنیلوں کی ناراضی کا سبب بنا تھا۔ یہ وہ جرنیل تھے، جو اسلام پسندوں کی حمایت میں تھے۔‘‘

فاروق سلہریا کے بقول، ’’فوج کے مابین یہ تقسیم اب بھی نظر آتی ہے۔ اس وقت کچھ جرنیلوں کا کہنا تھا کہ مغرب کے ساتھ ڈبل گیم یعنی کچھ طالبان کو ہلاک کرنا اور کچھ کو بچا لینا، ایک اچھی حکمت عملی ہے۔ تاہم حمید گل جیسے سابق فوجی افسر چاہتے تھے کہ اسلام آباد تمام اسلام پسندوں کی مکمل حمایت کرے۔‘‘

حمید گل اپنی آخری سانسوں تک پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی پالیسیوں کے ایک بے باک ناقد رہے۔ حمید گل یقین رکھتے تھے کہ افغانستان اور پاکستان میں اسلام پسند حکومتیں ہی علاقائی سطح پر پائیدارامن کی ضامن ہو سکتی ہیں۔ حمید گل نے ایک مرتبہ ٹیلی وژن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا، ’’طالبان ہمارے لوگ ہیں۔ وہ ہم سے ناراض ہیں لیکن ہم انہیں ایک مرتبہ پھر اپنی طرف لا سکتے ہیں۔‘‘