1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان حملے میں 140 افغان فوجی ہلاک، میرکل کا غنی اظہار افسوس

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے افغانستان میں ہونے والے تازہ خونریز حملے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جمعے کے دن مزار شریف میں واقع فوجی ہیڈ کوارٹرز پر کیے جانے والے اس حملے میں ایک سو چالیس افغان فوجی مارے گئے تھے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے افغانستان میں ہونے والے تازہ خونریز حملے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ روز مزار شریف میں واقع فوجی ہیڈ کوارٹرز پر کیے جانے والے اس حملے میں ایک سو چالیس افغان فوجی مارے گئے تھے۔ میرکل نے ہفتے کے روز افغان صدر اشرف غنی کو ارسال کردہ اپنے پیغام میں کابل حکومت اور عوام کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا۔

افغانستان میں اگلے برس کے آخر تک کے لیے جرمن فوجی مشن منظور

سب سے بڑے بم حملے کے بعد قومی سلامتی کے امریکی مشیر کابل میں

مسلسل خونریزی: افغانستان میں مزید تئیس ہزار شہری بے گھر

جمعے کے دن طالبان باغیوں کی اس کارروائی میں ایک سو ساٹھ افغان فوجی زخمی بھی ہوئے۔ اس شورش زدہ ملک میں 941 جرمن فوجی بھی تعینات ہیں، جو مقامی دستوں کی مشاورت اور تربیت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔

اس حملے میں کم از کم دس طالبان افغان فوجیوں کی وردیوں میں ملبوس ہو کر فوجی گاڑیوں کو چلاتے ہوئے فوجی مرکز میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ انہوں نے جب فوجیوں پر حملہ شروع کیا، اُس وقت فوجی مغرب کی نماز ادا کر نے کے بعد رات کا کھانا کھانے میں مصروف تھے۔ کئی افغان فوجی ڈائننگ ہال سے ملحقہ مسجد میں بھی ہلاک کیے گئے۔ طالبان نے حملے میں رائفلوں کے علاوہ دستی بموں کا بھی استعمال کیا۔ فائرنگ شروع ہونے کے بعد افغان فوجیوں میں افرا تفری پھیل گئی تھی۔

اس واقعے میں دو خود کش حملہ آوروں کے علاوہ بقیہ سات طالبان جوابی کارروائی میں مارے گئے۔ حملے کے بعد فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ حملے کے بعد زخمیوں کی منتقلی کے لیے فوجی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا گیا۔

Afghanistan Taliban-Angriff auf Militärlager in Mazar-i-Sharif (Getty Images/AFP/F. Usyan)

مزار شریف میں طالبان حملے کے بعد فوجی مرکز پر پہنچنے والے افغان فوجی

 ادھر امریکی وزارت دفاع نے ہلاکتوں کی تعداد پچاس بیان کی ہے۔ چند گھنٹے قبل تک کابل حکومت بھی ہلاکتیں اتنی ہی بیان کر رہی تھی۔ مزار شریف کے جس فوجی اڈے پر حملہ کیا گیا ہے، وہاں مغربی دفاعی اتحاد نے امریکی قیادت میں اپنے عسکری ماہرین کی تعیناتی کا بھی بتایا ہے۔ غیر ملکی فوجی افغان فوج کی تربیت اوع معاونت کے لیے وہاں موجود تھے۔ ابھی تک حملے میں کسی غیر ملکی کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

 طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اپنے اس بیان میں طالبان کے ترجمان نے کہا کہ شمالی علاقے میں طالبان کے بعض سینیئر لیدروں کی ہلاکت کے جواب میں یہ حملہ کیا گیا ہے اور ایسے مزید حملوں کے لیے کابل حکومت کو تیار رہنا چاہیے۔

DW.COM