1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان حملہ آور مسجد تک کیسے پہنچے؟

پاکستانی طالبان نے پشاور کے قریب فضائیہ کی چھاؤنی پر حملے کا آغاز جمعے کو ایک قریبی مسجد پر دھاوا بول کر کیا تھا۔ اس دوران طالبان نے سولہ نمازیوں کو ہلاک کیا جبکہ تیرہ عسکریت پسند بھی مارے گئے ہیں۔

پاکستانی فضائیہ کے مطابق جوابی کارروائی میں تیرہ حملہ آور تو مارے گئے ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اس حملے میں کتنے عسکریت پسندوں نے حصہ لیا۔ ایئر فورس ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور دو مختلف مقامات سے بڈھ بیر چھاؤنی میں داخل ہوئے اور پھر مختلف ٹولیوں میں تقسیم ہو گئے۔ دہشت گرد فرنٹیئر کانسٹیبلری کی یونیفارم پہنے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک ٹولی نے فجر کی نماز کے دوران نمازیوں کو نشانہ بنایا۔

1960ء میں قائم کی جانے والی یہ چھاؤنی کا ایک بڑا حصہ ایک رہائشی علاقے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ اس میں زیادہ تر فضائیہ کے ملازمین اور افسراں ہی رہائش پذیر ہیں اور یہاں پر جنگی جہاز اور آلات موجود نہیں ہیں۔ یہ پشاور سے دس کلومیٹر جنوب کی جانب واقع ہے۔

پشاور میں گزشتہ دسمبر میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد پاکستان فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں تیزی لائی گئی تھی اور اب اس تازہ واقعے کو پاکستانی فوج کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے حوالے سے ایک بڑا دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف فوری طور پر کارروائی شروع کرتے ہوئے تیرہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ ان کے مطابق ان کی لاشیں چھاؤنی میں ہی موجود ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہو سکا ہے کہ حملہ آور کس طرح مسجد تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں فوج کے کپتان اسفند یار اور دو محافظ بھی شامل ہیں جبکہ کم از کم دس اہلکار زخمی ہیں۔ ایک زخمی فوجی نے بتایا کہ مسجد سے باہر آتے ہی اسے گولی لگی ،’’میں نے زمین پر گرتے ہوئے حملہ آوروں کو دیکھا لیکن بعد میں کیا ہوا، مجھے اس کا علم نہیں۔ میں بے ہوش ہو گیا تھا‘‘۔

اس دوران فضائیہ کے سربراہ سہیل امان نے وزیر اعظم نواز شریف کو اس حملے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ آج جمعے کو کیا جانے والا یہ حملہ پاکستانی حکام کے اس اعلان کے صرف ایک روز بعد کیا گیا ہے، جس میں فضائیہ کے مرکز کامرہ پر کیے جانے والے حملے کی منصوبہ ساز کو گرفتار کرنے کا دعوٰی کیا گیا تھا۔ اس سے قبل کراچی میں القاعدہ کو مالی معاونت فراہم کرنے والے سید شبیہ احمد کو بھی گرفتار کیا گیا، جو ایئر فورس کا سابق پائلٹ ہے۔

اس حملے کے فوری بعد جنوبی وزیرستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں کم از کم تین شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے جبکہ پانچ دیگر زخمی ہیں۔