1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جرمنی میں، رپورٹ

جرمن میگزین ڈیر شپیگل کے مطابق جرمنی امریکہ اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات میں مدد کر رہا ہے۔ میگزین کے مطابق یہ خفیہ مذاکرات جرمن سر زمین پر ہو رہے ہیں۔

default

ڈیر شپیگل کے مطابق افغانستان اور پاکستان کے لیے جرمنی کے خصوصی نمائندے مشائیل شٹائنر ان مذاکرات میں مصالحتی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا تازہ راؤنڈ چھ اور سات مئی کو جرمنی میں ہوا۔

شٹائنر ایک تربیت یافتہ جج ہیں۔ سفارت کاری کے شعبے میں لمبے عرصے تک خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ کوسووو میں اقوام متحدہ کے مشن کی سربراہی بھی کر چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس حوالے سے جب جرمن وزارت خارجہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان مذاکرات کے جرمنی میں ہونے کی تصدیق نہیں کی، مگر یہ کہا کہ جرمنی افغانستان میں ایک سیاسی حل کی کوششوں میں مدد کر رہا ہے۔

ڈیر شپیگل کے مطابق افغانستان اور پاکستان کے لیے جرمنی کے خصوصی نمائندے مشائیل شٹائنر مذاکرات میں مصالحتی کردار ادا کر رہے ہیں

ڈیر شپیگل کے مطابق افغانستان اور پاکستان کے لیے جرمنی کے خصوصی نمائندے مشائیل شٹائنر مذاکرات میں مصالحتی کردار ادا کر رہے ہیں

جرمن وزارت خارجہ کے مطابق اس تناظر میں رواں برس پانچ دسمبر کو بون میں افغانستان کے حوالے سے ایک کانفرنس کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ اس کانفرنس کے لیے افغان صدر حامد کرزئی نے گزشتہ برس جرمنی کے دورے کے دوران درخواست کی تھی۔

جرمن میگزین کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ سال 2010ء کے آغاز سے طالبان کی سینئر قیادت سے براہ راست مذاکرات میں مصروف ہے۔ اخبار کے مطابق ان مذاکرات کے اب تک تین راؤنڈ ہو چکے ہیں، پہلا راؤنڈ قطر میں ہوا تھا جبکہ دوسرا راؤنڈ رواں برس کے آغاز میں جرمنی ہی میں ہوا تھا۔

میگزین کے مطابق امریکہ کی طرف سے ان مذاکرات کی قیادت اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور سی آئی اے کے حکام کر رہے ہیں جبکہ طالبان کی طرف سے مذاکرات کی قیادت طالبان سربراہ مُلا محمد عمر کا ایک رشتے دار کر رہا ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس