1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان اور افغان نمائندوں کی غیر رسمی ملاقات پاکستان میں

افغان عہدے دار اور افغان طالبان کے نمائندے پاکستان میں ہونے والے ایک غیر رسمی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس ملاقات کا مقصد اس وسیع تر مفاہمتی عمل کا آغاز کرنا ہے، جسے بین لاقوامی اور علاقائی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے دو خفیہ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ گزشتہ موسم گرما میں ناکام ہونے والے امن مذاکرات کے بعد افغان حکام اور طالبان کے نمائندوں کے مابین یہ پہلی براہ راست ملاقات ہو گی۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات آئندہ چند روز میں پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوگی۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک اہل کار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا، ’’ابھی تک کوئی تاریخ تو مقرر نہیں کی گئی لیکن یہ ملاقات دو سے تین روز میں ہونے جا رہی ہے۔‘‘

یہ ملاقات افغان امن عمل کے لیے سرگرم چہار فریقی گروپ کے کابل میں ہونے والے حالیہ اجلاس کے بعد ہونے جا رہی ہے۔ اس گروپ میں امریکا، چین، پاکستان اور افغانستان شامل ہیں۔ یہ چاروں ممالک افغان طالبان پر افغان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے کے لیے ذور دیتے آئے ہیں۔

Pakistan Islamabad Außenminister Treffen zu Afghanistan

ان خفیہ ذرائع کا کہنا تھا کہ طالبان کے نئے سربراہ ملا اختر منصور نے اپنے گروپ کو مذاکرات میں شرکت کرنے کی اجازت دے دی ہے

نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق یہ ملاقات افغانستان کے پندرہ سالہ تنازعے کے خاتمے کے لیے ایک روڈ میپ ثابت ہو سکتی ہے۔ قبل ازیں افغان طالبان کے نمائندوں نے گزشتہ موسم گرما میں افغان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کی تھی لیکن یہ امن مذاکرات طالبان کے سابق رہنما ملا عمر کی ہلاکت کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد ختم ہو گئے تھے۔

ملاقات کے لیے انتظامات کرنے والے پاکستان کے ایک خفیہ عہدے دار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ یہ مذاکرات وہاں سے ہی شروع ہونے جا رہے ہیں، جہاں سے ان کا سلسلہ منقطع ہوا تھا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے کابل حکومت کی طرف سے امن مذاکرات کی دعوت ملنے کے بعد سے طالبان کی رہبری شوریٰ کوئٹہ میں چند ایک ملاقاتیں کر چکی ہے۔

ان خفیہ ذرائع کا کہنا تھا کہ طالبان کے نئے سربراہ ملا اختر منصور نے اپنے گروپ کو مذاکرات میں شرکت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس اجلاس میں طالبان کا ملا محمد رسول کی قیادت میں کام کرنے والا دھڑا بھی اپنے نمائندے بھیج سکتا ہے۔

طالبان کے ساتھ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہونے جا رہی ہے، جب عملی طور پر وہ افغانستان کے اہم اضلاع پر قبضہ کرتے جا رہے ہیں اور دارالحکومت کابل میں غیرملکیوں اور فوجیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔