1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ضدی بچی کی سزا: بوری میں دم گھٹنے سے موت

شمالی فلپائن میں ایک چھ سالہ بچی اس لئے دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئی کہ اس کی ماں نے اس بچی کے ضدی ہونے کی وجہ سے اسے سزا دینے کے لئے ایک بوری میں بند کر دیا تھا۔

default

منیلا کی ایک جیل میں اپنی ماؤں کے ساتھ قیدکم سن بچے

منیلا سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ملکی دارالحکومت سے قریب 330 کلومیٹر شمال کی طرف کالنگا نامی صوبے کے ایک شہر Tabuk میں یہ افسوسناک واقعہ ہفتے کو رات گئے پیش آیا۔

کالنگا میں صوبائی پولیس کے سربراہ ورگیلو لایا نے آج پیر کے روز بتایا کہ یہ چھ سالہ بچی اس لئے دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئی کہ اس کی ماں نے اسے جس بوری میں بند کر دیا تھا، اس کے اندر پلاسٹک لگا ہوا تھا اور یہ بچی چند ہی لمحوں میں ہلاک ہو گئی، جس کا اس کی ماں کو علم اس کی موت کے کافی دیر بعد ہوا۔

Flash-Galerie Gewalt an der Schule

پولیس نے میلبا گامونگان نامی اس خاتون کو گرفتار کر لیا ہے، جو اس بچی کی موت کی تصدیق ہو جانے کے بعد اتنی خوفزدہ تھی کہ اپنے باقی دو بچوں کے ساتھ فرار ہونے کی کوشش کر رہی تھی کہ گرفتار کر لی گئی۔

فلپائن کی اس 34 سالہ خاتون کے بقول اس کی ہلاک ہو جانے والی بچی بڑی ضدی تھی اور وہ ماضی میں بھی اسے سزا دینے کے لئے کسی نہ کسی بوری میں بند کر دیتی تھی۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے دیگر بچوں کو بھی ان کی غلطیوں پر کبھی کبھی اسی طرح کی سزا دیتی تھی۔

گزشتہ ویک اینڈ پر ایک بار پھر جب میلبا اپنی اس چھ سالہ بچی کی ضد کی وجہ سے بہت پریشان ہو گئی تو اس نے اسے ایک بوری میں بند کر دیا، جس کے بعد اس کی آنکھ لگ گئی۔ آنکھ کھلنے پر جب اس نے اپنی اس بیٹی سے مخاطب ہونے کی کوشش کی، تو اسے کوئی جواب نہ ملا۔ اس پر جب اس نے یہ بوری کھولی تو ’’اپنی ماں کو تنگ کرنے والی یہ ضدی بچی‘‘ دم گھٹنے سے ہلاک ہو چکی تھی۔

بعد ازاں میلبا کی چیخ و پکار پر چند ہمسائے بھی وہاں جمع ہو گئے اور چھ سالہ بچی کو بلاتاخیر ہسپتال پہنچا دیا گیا، جہاں ڈاکٹر اس کی موت کی تصدیق کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہ کر سکے۔

ملزمہ کے خلاف اپنے ہی ایک نابالغ بچے کے قتل کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ کالنگا میں پولیس کے سربراہ لایا کے مطابق اس خاتون کی ذہنی صحت کا معائنہ کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس