1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صومالی قزاق قرن افریقہ کے لیے خوف و دہشت کا باعث

بحری جہازوں کا عملہ قرن افریقہ کے پانیوں میں داخل ہوتے ہی خوف و ہراس میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں صومالی قزاقوں کی طرف سے تقریباً 600 افراد کو یرغمال بنایا جا چکا ہے۔

default

رواں سال فروری میں بھارت میں پکڑے جانے والے مشتبہ صومالی قزاق

جو افراد اب تک قزاقوں کی کارروائیوں سے محفوظ رہے ہیں انہیں بھی ہر وقت کا دھڑکہ لگا رہتا ہے کہ قزاقوں کی اگلی کارروائی کا نشانہ انہی کا جہاز بنے گا۔ بھارتی مالبردار جہاز ’صفینہ ابراہیمی‘ کے عملے کے اراکین اس سلسلے میں بہت چوکنا رہتے ہیں۔ اس جہاز کے کپتان عثمان داؤد کی آنکھوں کے گرد حلقے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ واضح ہے۔ اُن کے بقول’ہم چویس گھنٹے قزاقوں پر نظر رکھتے ہیں‘۔

خود اعلان کردہ جمہوریہ ’صومالی لینڈ‘ کے بندر گاہ ’بربیرہ‘ پر لنگر انداز ہونے والے صفینہ ابراہیمی کا عملہ 20 تاجر پیشہ جہاز رانوں پر مشتمل ہے۔ اس کے کپتان عثمان داؤد کا کہنا ہے،’ مجھے تو اب یاد بھی نہیں کہ کتنی بار قزاق ہمارے جہاز پر سوار ہوئے۔ ایسا کم از کم بیس بار ہوا ہے‘۔

MV Ariana von Piraten gekapert

صومالی قزاقوں کا نشانہ اکثر و بیشتر مریکی اور یورپی جہاز بنتے ہیں

عثمان داؤد نے یہ بھی بتایا کہ اُن کے عملے کے اراکین کو اچھی طرح یہ یاد ہے کہ کون سی تاریخوں کو قزاقوں نے حملہ کیا اور موبائل فونز اور دیگر قیمتی اشیاء اپنے قبضے میں لے لیں اور چند روز بعد انہوں نے پھر کسی اور جگہ سے لوٹ یا ڈاکے کا مال حاصل کیا۔ صومالی قزاقوں کے لیے جہازوں پر موجود الیکٹرونک مصنوعات، استعمال شدہ گاڑیاں، ٹرکوں کے پہیے، چاولوں کی بوریاں اور دیگر اشیاء کوئی خاص دلچسپی کا باعث نہیں ہوتیں۔ ان کا اصل ہدف یورپی اور امریکی آئل ٹینکر ہوتے ہیں کیونکہ اگر ان کے عملے کو یرغمال بنا لیا جائے تو عموماً تاوان کی بہت بھاری رقوم حاصل ہوتی ہیں۔ کپتان داؤد اور ان کا عملہ اب بھی خوفزدہ ہے۔ عثمان داؤد صومالیہ کے ساحل کی نگرانی کرنے والے وار شپس کے ساتھ ریڈیو کے ذریعے مسلسل رابطہ میں رہتے ہیں۔

Zwei somalische Piraten an Spanien überstellt

2009 ء میں اسپین انتظامیہ کے حوالے کیے جانے والے صومالی بحری قزاق

’صومالی لینڈ‘ کی بندر گاہ ’بربیرہ‘ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ’ابوکو جاما‘ کو قزاقوں کی سرگرمیوں کا بخوبی اندازہ ہے۔ وہ کہتے ہیں’ ہر ماہ اس بندرگاہ پر30 جہاز اور 50 کے قریب جھوٹی کشتیاں آکر لنگر انداز ہوتی ہیں، جبکہ چند سالوں پہلے تک ان جہازوں کی تعداد 40 سے 60 کے درمیان اور کشتیوں کی 60 تا 80 ہوا کرتی تھیں‘۔

صومالی لینڈ جیسے چھوٹے افریقی ملک کی بندرگاہ سے ہونے والی آمدنی میں واضح کمی اس ملک کے لیےکافی تکلیف دہ ہے۔ صومالی لینڈ ہنوز عالمی برادری کی طرف سے اپنے وجود کے تسلیم کیے جانےکا منتظر ہے۔

’صومالی لینڈ‘ کے بندر گاہ ’بربیرہ‘ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ’ابوکو جاما‘ کا کہنا ہے کہ صومالی لینڈ کی آمدنی کا 80 فیصد حصہ اسی بندرگاہ سے حاصل ہوتا ہے۔ یہں سے اونٹ، بھیڑیں، اور بکریاں خلیجی ریاستوں میں بذریعہ بحری جہاز بھیجی جاتی ہیں۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس