1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صومالی قزاقوں کے پاکستانی عسکریت پسندوں سے تعلق کا بھارتی شبہ

بھارتی کوسٹ گارڈ کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق بھارتی سکیورٹی ایجینسیوں کی جانب سے صومالیہ کے قزاقوں اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد گروپوں کے درمیان ممکنہ تعلق کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

default

پاکستان سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند گروہوں اور قزاقوں کے درمیان کسی بھی قسم کے رابطے کے حوالے سے کیا اب تک کوئی شواہد سامنے آئے ہیں، اس حوالے سے بھارتی کوسٹ گارڈ کے ڈائریکٹر جنرل وائس ایڈمیرل انیل چوپڑا کا کہنا ہے " جب بھارت کے اتنے نزدیک قزاقی ہو رہی ہو تو یہ بھی سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں ان کا کوئی رابطہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند گروہوں سے تو نہیں ہے۔ ہماری خفیہ ایجنسیاں اب تک پکڑے جانے والے افراد سے اس سلسلے میں تحقیقات کر رہی ہیں"۔

Piraten in Somalia vor Gericht

کینیا میں گرفتار مبینہ صومالی قزاق

اس سے قبل بھارت نے گزشتہ ماہ اپنی سمندری حدود میں کارروائی کرتے ہوئے Lakshadweep کے مقام سے ایک کشتی میں سوار 15 پاکستانیوں اور پانچ ایرانیوں کو حراست میں لیا تھا۔ اس کے علاوہ بھارتی سمندری حدود میں28 جنوری کو قزاقوں کے ایک جہاز پر بھارتی نیوی نے حملہ کرتے ہوئے ’Prantalay‘ نامی جہاز کے اغواء کیے گیے 20 افراد کو نہ صرف بچایا تھا بلکہ 15 قزاقوں کو بھی حراست میں لے لیا تھا۔ اب ان تمام افراد سے ممبئی میں ایجینسیوں کی جانب سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

ممبئی حملوں کے بعد سے گزشتہ برس بھارتی کوسٹ گارڈ کی جانب سے خفیہ ایجینسیوں کی رپورٹس پر بھارتی ساحلوں کی جانب بڑھنے والے مشکوک جہازوں سے نمٹنے کے لیے 35 کاروائیاں کی جا چکی ہیں۔

ان تمام آپریشنز میں سے کتنے میں خفیہ اداروں کی اطلاعات غلط ثابت ہوئیں، اس حوالے سے چوپڑا کا کہنا تھا، ’ہمیں حد سے زیادہ احتاط برتنی چاہئے۔میں ایسی کسی بھی رپورٹ پر ردعمل ظاہر نہ کرنے کے بجائے ردعمل ظاہر کرنا پسند کروں گا‘۔

INS Savitri der indischen Marine

بھارتی سمندری حدود کی حفاظت کے لیے بھارت کا نگراں جہاز

ان کا کہنا تھا کہ صومالی قزاقوں کا اپنے ملک سے مشرقی حصوں کی جانب کارروائیوں کا دائرہ کار پھیلانے اور بھارت کی جانب بڑھنے کے باعث بھارت اور مالدیپ کے درمیان سمندر میں تجارتی جہازوں کو بھی شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

چوپڑا کے مطابق بھارتی ساحلوں کی کڑی نگرانی کے لیے روزانہ کی بنیاد پر 18 سے 20 بحری جہاز جبکہ چار سے پانچ طیارے روانہ کیے جاتے ہیں۔

ادھر سری لنکا کی وزارت برائے ماہی گیری نے تصدیق کی ہے کہ صومالی قزاقوں نے ایک اور کاروائی کرتے ہوئے 27 جنوری کو سری لنکن مچھیروں کی کشتی پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں دو مچھیرے ہلاک ہوئے جبکہ تین کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ یرغمال بنائے گئے افراد کو ڈھونڈنے کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM