1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

صومالی قزاقوں کے خلاف مشن: کامیابی کے آثار

اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق صومالیہ کے ساحلوں کے قریب سمندری قزاقی کی روک تھام کے لئے بین الاقوامی کوششوں کی کامیابی کے آثار دکھائی دینا شروع ہو گئے ہیں اور قزاقوں کےگروہ دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

default

صومالی ساحلوں کے قریب فرار ہونے کی کوشش کے دوران کھلے سمندر سے پکڑے جانے والے قزاق

عالمی ادارے کے صومالیہ کے لئے خصوصی مندوب احمدو عبداللہ نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ صومالی ساحلوں کے نواحی علاقے میں بین الاقوامی بحری دستوں کی صورت میں نگران جہازوں کی موجودگی زیادہ سے زیادہ کامیاب ثابت ہو رہی ہے اور اب تک سو کے قریب قزاقوں کو گرفتار بھی کیا جاچکا ہے۔

احمدو عبداللہ کے بقول قرن افریقہ اور خلیج عدن کے علاقے میں حفاظتی فرائض انجام دینے والے مختلف ملکوں کے بحری دستوں اور نگران جہازوں کی موجودگی اور ان کی قزاقوں کے خلاف مسلسل کارروائیوں کا اب تک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ قزاقوں کے مسلح گروہ اب اس خطے سے دور ہوتے جارہے ہیں۔

Suche nach Piraten im Indischen Ozean

بحر ہند کے علاقے میں نگرانی کے فرائض انجام دینے والا فرانسیسی بحریہ کا ایک جنگی جہاز

یہی نہیں بلکہ اب یہ قزاق دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے پر بھی مجبور ہو چکے ہیں اور اسی لئے صومالی ساحلوں کے قریب بحری جہازوں کے اغواء اور تاوان کی وصولی کے واقعات بھی مقابلتا کم ہوتے جارہے ہیں۔

عالمی ادارے کے صومالیہ کے لئے مندوب احمدو عبداللہ نے بتایا کہ چند مہینے پہلے تک قرن افریقہ کے سمندری علاقے کو قزاقوں کے جن گروہوں نے قطعی طور پر غیر محفوظ بنا دیا تھا، ان میں سے اب تک سو کے قریب مختلف ملکوں کے بحری دستوں کے ہاتھوں گرفتار ہو چکے ہیں، بہت سے بحری قزاق اب اس علاقے میں موجود ہی نہیں ہیں اور ان جرائم پیشہ مسلح افراد کی مالی معاونت کرنے والے عناصر بھی یہ جان چکے ہیں کہ ان پر نگاہ رکھی جارہی ہے۔

چند ماہ پہلے تک صومالی قزاقوں نے بڑے تواتر سے یہ سلسلہ شروع کررکھا تھا کہ وہ بڑے بڑے تجارتی بحری جہازوں کو ان کے عملے سمیت اغواء کرلیتے تھے اور پھر ان جہازوں، ان پر لدے سامان اور یرغمالی عملے کی رہائی کے بدلے کروڑوں ڈالر تاوان وصول کرتے تھے۔

Kenia Somalia Piraten Fregatte Rheinland-Pfalz in Mombasa

جرمن بحری دستوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والا ایک صومالی قزاق

احمدو عبداللہ کے مطابق اس سال کے شروع سے بحر ہند کے متعدد اہم سمندری راستوں اور خلیج عدن کی مصروف سمندری گذرگاہ کی بہت سے اضافی غیر ملکی بحری دستوں کی طرف سے نگرانی کے باعث اب قزاقوں کے حملوں میں کمی کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔

پچھلے سال صومالی ساحلوں کے نواحی علاقے میں قزاقوں نے سال بھر میں تجارتی بحری جہازوں پر کل سو سے زائد حملے کئے تھے جن میں سے 40 سے زائد واقعات میں وہ ان جہازوں اور ان کے عملے کو یرغمال بنانے میں کامیاب بھی ہو گئے تھے۔ تاہم اس سال جنوری سے اب تک ان قزاقوں نے مختلف بحری جہازوں پر جو حملے کئے، ان میں حملہ آوروں کی کامیابی کا تناسب ماضی کے مقابلے میں کم رہا۔

احمدو عبداللہ نے کہا کہ یہ ایک حوصلہ افزاء پیش رفت ہے جو اس امر کی متقاضی بھی ہے کہ بحری قزاقی کے خلاف بین الاقوامی برادری کی زیادہ مربوط کوششیں اس مسئلے کے مکمل خاتمے تک مسلسل جاری رہنا چاہیئں۔

رپورٹ: مقبول ملک ، ادارت: عابد حسین

DW.COM