1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صومالی عوام موت کا منظر دیکھنے پر مجبور

صومالیہ میں انتہاپسندوں نے اپنے زیرانتظام ایک علاقے میں سینکڑوں افراد کو سزائے موت پر عملدرآمد کا ایک مظاہرہ دیکھنے پر مجبور کیا۔

default

الشباب ملیشیا نے ملک کے جنوبی علاقے میرسا میں دو افراد کو حکومت کے لئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تھا، جنہیں اتوار کو پانچ شدت پسندوں پر مشتمل فائرنگ اسکواڈ نے کھلے عام گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

خبررساں ادارے AP نے الشباب کے ایک سینئر عہدے دار شیخ سلدان الا محمد کے حوالے سے بتایا کہ گرفتارشدگان نے جاسوسی کا الزام قبول کیا تھا۔

اس سے پہلے علاقے میں لاؤڈاسپیکر کے ذریعے اعلانات کئے گئے، جن میں لوگوں سے کہا گیا کہ انہیں اس سزا کا عملی مظاہرہ دیکھنے کے لئے پہنچنا ہوگا۔ الشباب نے علاقے میں تمام اسکول بھی بند کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ شدت پسند اس مظاہرے کے موقع پر بچوں اور نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کے خواہاں تھے۔ وہاں موجود لوگوں میں زیادہ تعداد بھی خواتین اور بچوں ہی کی تھی۔

زیادہ دن نہیں گزرے کہ انہوں نے جنوبی علاقے کسمایو میں نوجوانوں کے لئے سوال و جواب کی ایک نشست ترتیب دی تھی۔ اس موقع پر جیتنے والوں کو بندوقیں، دستی بم اور ٹینک شکن بارودی سرنگیں انعام میں دی گئیں۔

UN Somalia Demonstration in Mogadishu Frauen mit AK 47

الشباب کی جانب سے نوجوان نسل کو تشدد پر آمادہ کرنے کی مثالیں آئے دن سامنے آتی ہیں

الشباب کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو ایسے انعامات دینے کا مقصد انہیں وقت ضائع کرنے سے روکنا ہے تاکہ وہ اپنے خطے اور مذہب کو تحفظ فراہم کرنے جیسی زیادہ ضروری باتوں پر دھیان لگائیں۔

اس حوالے سے تقسیم انعامات کی تقریب میں بھی عورتوں اور بچوں سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر شدت پسندوں نے والدین پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو کم عمری سے اسلحہ استعمال کرنے کی تربیت دینا شروع کر دیں۔

الشباب صومالیہ کا القاعدہ سے منسلک ایک شدت پسند گروہ ہے اور ملک کا بیشتر جنوبی علاقہ اس کے قبضے میں ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM