1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صومالی بحران: استنبول عالمی کانفرنس

افریقی ملک صومالیہ میں مسلمان انتہا پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور بحری قزاقوں کی کارروائیوں کے تناظر میں ترکی کے شہر استنبول میں ایک دو روزہ عالمی کا نفرنس کا انعقاداس ویک اینڈ پر ہوا۔

default

قرن افریقہ میں واقع ملک صومالیہ کی کمزور اعتدال پسند حکومت کو درجنوں ملکوں کی جانب سے حمایت اور امداد کے اعلان و وعدے استنبول منعقدہ کانفرنس میں سامنے آئے ہیں۔ صومالیہ کے حالات و واقعات کے حوالے سے دو روزہ کانفرنس کا اختتام ہفتے کو ہو۔ کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا اور اُس میں چھ مختلف نکات کو اہمیت دی گئی ہے۔ ان میں مواصلاتی نظام کا قیام، ٹرانسپپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی تکمیل، مال مویشیوں کی پرورش، افزائش ماہی اور ماہی گیری، بینکوں کا قیام اور متبادل توانائی کی ضروریات کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری کے مختلف منصوبوں کو حتمی شکل دینا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمان انتہاپسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان اور سمندری قزاقی کا معاملہ کانفرنس میں مرکزی اہمیت کا حامل موضوع تھا۔ صومالیہ سے علیحیدگی اختیار کرنے والے صومالی لینڈ کے تنازعے کی بازگشت بھی کانفرنس میں سنائی دی۔

Scharif Scheich Ahmed

صومالیہ کے صدر شیخ شریف شیخ احمد: فائل فوٹو

اس کانفرنس میں کم از کم پچپن ملکوں اور بارہ دوسری اہم عالمی تنظیموں کے وفود اور نمائندے شریک تھے۔ کانفرنس کا افتتاح اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کیا ۔ بان کی مون نےشورش زدہ ملک میں ایک مضبوط حکومت کے قیام کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے عالمی برادری کو فوری طور پرعملی اقدام تجویز کرنے کا بھی مشورہ دیا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ برنارڈ کوشنر نے شرکائے کانفرنس سے خطاب میں مختلف ملکوں اور بین الاقوامی اداروں سے کہا کہ وہ دوبارہ صومالیہ میں اپنی سرگرمیوں کو شروع کر کے مقامی آبادی کو عالمی برادری کے احساسات سے آگاہ کرنے کے علاوہ اعتماد اور حوصلہ دیں۔

Straßenkämpfe in Mogadischu

صومالیہ کی سرکاری فوج

کانفرنس کے شرکاء میں اتفاق تھا کہ صومالی حکومت کو اقتصادی اور فوجی امداد سے مضبوط کرنے سے ہی مسلمان انتہاپسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ بحری قزاقوں کو بھی نکیل ڈالی جا سکتی ہے۔ تمام وفود کی جانب سے صومالیہ کے اعتدال پسند مذہبی صدر شیخ شریف شیخ احمد کے لئے مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔ کانفرنس میں یہ طے پایا کہ شیخ شریف کی عبوری مرکزی حکومت کو ملک کے طول و عرض پر مکمل اختیار کے لئے ضروری فوجی تربیت کے علاوہ جدید اسلحے سے لیس کرنا بھی اہم ہے۔

صومالیہ میں اعتدال پسند مذہبی لیڈر شیخ شریف شیخ احمد کی قیادت میں عبوری حکومت کا قیام جنوری سن 2009 میں عمل میں آ گیا تھا۔ لیکن اس حکومت کو صومالیہ کے مسلمان انتہاپسندوں کی جانب سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ یہ انتہاپسند سب سےبڑے شہر موغادیشو کے بڑے حصے پر کنٹرول اور غلبہ رکھتے ہیں۔ عبوری حکومت کو افریقی یونین کے امن دستوں کی مدد بھی حاصل ہے لیکن موغادیشو کے معمولی حصے پراس کی عمل داری موجود ہے۔

صومالیہ کے اعتدال پسند صدر شیخ شریف شیخ احمد بھی کانفرنس میں شریک تھے اور انہوں نے اپنے ملک کی غربت کو تمام مسائل کی بنیاد قرار دیا۔ اُن کے مطابق غربت کی وجہ سے لوگ آمدنی کا آسان ذریعہ تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ شیخ شریف کے خیال میں اقتصادی صورت حال کے بہتر ہونے سے ہی امن و سلامتی اور سیاسی صورت حال میں بہتری پیدا ہو سکتی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM