1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

صومالیہ میں نئے صدر سے نئی امیدیں

صومالیہ 1991 سے مسلسل انتشار اور خانہ جنگی کا شکار ہے لیکن اب وہاں شیخ شریف احمد سربراہ مملکت کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں، جو ملک میں قیام امن کے خواہش مند ہیں اور ان سے صومالی عوام نے بڑی امیدیں بھی وابستہ کررکھی ہیں۔

default

صومالی صدر شیخ شریف احمد

قرن افریقہ کے علاقے میں جنوری کے آخر میں صومالیہ کے صدر کے عہدے پر فائز ہونے والے 44 سالہ شیخ شریف احمد سے عام شہریوں نے بڑی امیدیں وابستہ کررکھی ہیں۔ اپنے انتخاب کے بعد شیخ شریف جب جلاوطنی سے واپس لوٹے تو ملکی دارالحکومت مُوغادِیشُو میں عوام نے بہت مسرت کا اظہار کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دو عشروں کی خانہ جنگی کے بعد اقتدار بالآخر ایک اہیسے رہنما کو ملا جو امن کی بات کرتا ہے، مصالحت کی دعوت دیتا ہے اور کسی کے خلاف نفرت نہیں پھیلاتا۔ شیخ شریف احمد کہتے ہیں: "میں اس لئے صومالیہ واپس لوٹا ہوں کہ صدر کے طور پر

Unruhen in Somalia, Auseinandersetzungen in Mogadischu

غربت اور افلاس کے شکار اس ملک میں سیاسی بے یقینی اور عدم استحکام نے صورت حال مزید خراب کر رکھی ہے

ایک نئے عہد کا آغاز کرسکوں۔ میں صومالیہ کے تمام باشندوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ میرے ساتھ مل کر ہمارے اپنے وطن میں قیام امن اور تعمیر نو کے لئے کام کریں۔ میں مسلح مزاحمت کرنے والے تمام گروپوں سے بھی یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہوں۔"

صومالیہ میں اس وقت صورت حال یہ ہے کہ نئے صدر شیخ شریف احمد دراصل اپنے ہم وطنوں سے اپیل کرنے کے علاوہ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔ اس لئے کہ ان کی حالت ایک ایسے صدر کی سی ہے جو اپنے ملک کی تلاش میں ہے۔ صدر کے طور پر ان کا اثرورسوخ ان چند علاقوں تک محدود ہے جہاں مسلح اسلام پسند ابھی اقتدار میں نہیں آئے۔

صومالیہ خانہ جنگی سے زیادہ تر تباہ ہو چکا ہے۔ لاکھوں افراد مہاجرت کرچکے ہیں۔ ہر دوسرا صومالی شہری زندہ رہنے کے لئے ان اشیائے خوراک پر انحصار کرتا ہے جو بیرونی دنیا کی طرف سے مہیا کی جاتی ہیں۔ لیکن یہ امدادی اشیاء بھی اس لئے باقاعدگی سے صومالی باشندوں تک نہیں پہنچتیں کہ وہاں جاری مسلح جھڑپیں بار بار شدید ہو جاتی ہیں۔

Islamischer Kämpfer in Somalia

صومالیہ کئی برسوں سے مسلسل خانہ جنگی کا شکار ہے

اس کے باوجود بہت سے صومالی شہریوں کو یقین ہے کہ نئے صدر ملک میں انتہا پسندوں کی دہشت گردی کو ختم کرسکتے ہیں۔ شیخ شریف خود بھی اسلام پسند ہیں نہ کہ جمہوری سوچ کے حامل، لیکن وہ کوئی بنیاد پرست بھی نہیں ہیں۔ اسی لئے امید کی جارہی ہے کہ قومی سطح کی مکالمت کے عمل میں ان کے سبھی مذاکراتی ساتھی ان کا احترام کریں گے۔

مُوغادِیشُومیں ایک شہری نے نئے صدر کے بارے میں اظہار رائے کرتے ہوئے کہا: "میں شیخ شریف کی حمایت کرتا ہوں۔ ان کے انتخاب کے چند ہی روز بعد حالات قدرے بہتر ہو چکے ہیں۔ میری دعا ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے۔"

نئے صومالی صدر کا سب سے اہم فریضہ ملک میں متحدہ قومی حکومت کا قیام ہے، ایک ایسا کام جو افریقہ کی اس ریاست میں کم ازکم گذشتہ دو عشروں کے دوران کوئی نہ کرسکا۔ اسی لئے اب صدرشریف احمد کویہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اکثر شہریوں کی امیدوں کا محور ہی نہیں ہیں بلکہ عوام کی امیدوں کو پورا بھی کرسکتے ہیں۔