1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

صومالیہ میں مصیبت کے مارے دو شہریوں کی کہانی

صومالیہ میں قحط، خشک سالی اور فسادت کے مارے جمع پونجی خرچ کرکے جان بچانے کی خاطر مارے مارے پھر رہے ہیں۔ باغیوں کے زیر اثر جنوبی سوڈان کے شہریوں کے لیے وہاں سے نکلنے کے لیے کرائے کی رقم جوڑنا کسی امتحان سے کم نہیں۔

default

ابشیرہ نامی ایک خاتون اپنے پانچ بچوں کو چھوٹے بھائی کے پاس چھوڑ کر موغادیشو سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں۔ صومالیہ کے اس دارالحکومت سے نکلنے کے لیے ابشیرہ نے 150 ڈالر کی مساوی رقم بس ڈرائیور کو دی، جو صومالیہ کے بیشتر شہریوں کے لیے بہت بڑی رقم تصور کی جاتی ہے۔

ابشیرہ کا تعلق موغادیشو کے مدینہ نامی ضلع سے ہے۔ یہاں کسی زمانے میں تاریخی اہمیت کے حامل فن تعمیر کے نمونے دیکھنے کو ملتے تھے مگر اب ہر سمت ویرانی چھائی ہے اور سمندری موجوں کا راج ہے۔ دو دہائیوں سے جاری خانہ جنگی نے اس شہر کے بیشتر حصوں کو کھنڈرات میں بدل کر رکھ دیا ہے۔

2007ء سے جاری بدامنی کی حالیہ لہر میں قریب ہر روز ہی القاعدہ سے منسلک حکومت مخالفین اور صومالی فوج کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوتا ہے۔ ابشیرہ موغادیشو میں اپنے زندگی گھر پر نظر بند کیے گیے کسی قیدی کی زندگی جیسی محسوس کرتی تھیں۔

ابشیرہ کی پہلی منزل کینیا میں قائم صومالی مہاجرین کا وہ کیمپ ہے جہاں پہلے ہی گنجائش سے زائد افراد کو عارضی طور پر بسایا گیا ہے۔ ان کی نگاہیں آسٹریلیا پر جمی ہوئی ہیں، جہاں ان کے عزیز رہائش پزید ہیں۔

Hungersnot in Somalia Afrika

خشک سالی کے باعث دربدر انسان امداد کے منتظر

ابشیرہ جیسا ہی ایک اور مصیبت کا مارا صومالی شہری حسن محمود محمد ہے، جو کینیا کے سرحد کے قریب لیبوئی میں قائم اقوام متحدہ کے کیمپ میں اپنے کنبے کے ساتھ پناہ لیے ہوئے ہے۔ مصیبتوں کے مارے حسن کے بچوں کے پیر بری طرح چِھلے ہوے ہیں۔ حسن کا کہنا ہے کہ وہ بیوی اور بچوں کے ساتھ پندرہ روز تک پیدل سفر کرکے صومالیہ کے شابیلا نامی علاقے سے اس کیمپ تک پہنچا ہے۔ سات بچوں کے واحد کفیل نے اپنی دکھ بھری کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ ان کے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہ تھا، بس راہ چلتے لوگوں سے کبھی کبھار کچھ ملا تو اسی پر گزارا کیا گیا۔

ابشیرہ اور حسن میں فرق یہ ہے کہ ایک کے پاس بس کا ٹکٹ خریدنے کے پیسے تھے اور وہ بہتر زندگی کی تلاش میں ہے جب کہ دوسرے کی زندگی اب بھی اسی محور پر گھومتی ہے کہ وہ کسی طرح اپنے کنبے کے لیے محض دو وقت کی روٹی حاصل کرلے۔

اقوام متحدہ نے صومالیہ کے دو علاقوں کو قحط کا شکار قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وہاں قریب چالیس لاکھ انسان بھوکے ہیں۔ ایسے خدشات بھی ہیں کہ خشک سالی کا یہ بحران اب خطے کے دیگر علاقوں تک اپنا دامن پھیلا سکتا ہے۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت: شامل شمس

DW.COM