1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صومالیہ میں ’حتمی جنگ‘: درجنوں افراد ہلاک

صوماليہ کے دارالحکومت موغاديشو ميں پیر سے ايک بار پھر مغربی ممالک کی حمايت سےقائم حکومت اور شدت پسندوں کے درميان شديد لڑائی ہو رہی ہے۔ قصر صدارت سے بالکل قريب ہوٹل پر حملے ميں متعدد پارليمانی اراکين بھی ہلاک ہوگئے ہيں۔

default

موغاديشو کے ایک ہسپتال کا منظر

آج منگل کو صوماليہ کے دارالحکومت موغاديشو ميں بہت سے مسلح افراد نے قصر صدارت سے بالکل قريب ہی واقع ايک ايسے ہوٹل پر حملہ کر ديا، جہاں سرکاری اہلکاروں اور پارليمانی ارکان کا اکثر آنا جانا رہتا ہے۔

ايک سرکاری افسر نے کہا کہ ابھی تک يہ يقين سے نہيں کہا جا سکتا کہ حملہ آور کون ہيں۔ تاہم عام خيال ہے کہ يہ مسلح افراد مسلمان شدت پسندوں کی الشباب نامی باغی مليشيا کے وہ جنگ جو ہيں، جو سکيورٹی کارکنوں کی ورديوں ميں اس علاقے ميں داخل ہو گئے ہيں۔

ايک صومالی پوليس افسر علی موسیٰ نے بتايا کہ الشباب اورافريقی يونين کی تنظيم کے چھ ہزار سپاہیوں کی مدد سے لڑنے والی سرکاری فوج کے درميان پیر کی شام سے جاری جھڑپوں ميں منگل کی دوپہر تک کم ازکم 40 افراد ہلاک اور 130 سے زائد زخمی ہو چکے تھے۔ صومالی نائب وزير اعظم نے منگل کو بتایا کہ شہر میں صدارتی محل کے نواح میں واقع ہوٹل پر دو خود کش حملے کئے گئے۔ ان حملوں میں دونوں حملہ آوروں کے ساتھ ساتھ چھ پارليمانی ارکان اور 30 سے زائد دیگر افراد بھی ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں سے متعدد عام شہری اور پوليس اہلکار بتائے گئے ہیں۔

Somalia Kämpfe in Mogadishu AU Panzer

افريقی يونين تنظيم کے ٹينک موغاديشو کی سڑکوں پر

صومالی نائب وزیر اعظم کے بقول پولیس نے جب اس ہوٹل کے ارد گرد اپنا گھيرا تنگ کرنے کی کوشش کی، تو ان حملہ آوروں نے، جو ہوٹل کی عمارت کے اندر موجود تھے، خود کو بموں سے اڑا ديا۔ اس سے پہلے ايک رکن پارليمان نے ہوٹل کے اندر سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے ايک خبر ايجنسی کو بتايا تھا کہ تب تک حملہ آوروں کی فائرنگ سے 15 پارليمانی ارکان ہلاک ہو چکے تھے۔

الشباب نامی تنظیم نے کل پیر سے موغادیشو پر ايک بڑا حملہ شروع کر رکھا ہے، جس کے نتيجے ميں صومالی دارالحکومت ميں اس باغی تنظيم اور سرکاری فوج کے درميان شروع ہونے والی خونريز جھڑپيں ابھی تک جاری ہيں۔

ان جھڑپوں سے قبل پير ہی کی شام صوماليہ کی سب سے طاقتور باغی مليشيا الشباب کی طرف سے یہ اعلان بھی کر دیا گیا تھا کہ اس کے کارکن افريقی يونين کی ’’قابض فوج‘‘ پر ايک بڑا حملہ کرنے والے ہیں۔ اس موقع پر باغی رہنما شيخ علی محمود راگے نے موغاديشو ميں اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا: ’’ميں نے تمام صومالی مسلمانوں اور الشباب کے دستوں کو يہ حکم دے ديا ہے کہ وہ مسلح حملہ کر کے مسیحی فوجيوں کو موغاديشو سے نکال باہر کريں۔‘‘ اس موقع پر محمود راگے نے مسلح حملے کے لئے ’’حتمی جنگ‘‘ کے الفاظ بھی استعمال کئے۔

عينی شاہدين کا کہنا کہ موجودہ لڑائی گذشتہ کئی مہينوں کے دوران ہونے والی شديد ترين جنگ ہے، جس ميں فریقین ایک دوسرے پر گولہ باری کر رہے ہيں اور ٹينکوں کا استعمال بھی جاری ہے۔

صوماليہ کی کمزور ملکی حکومت نے، جسے مغربی دنیا کی حمايت حاصل ہے، الشباب پر گنجان آباد شہری علاقوں پر گولہ باری کا الزام لگايا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ يہ ’’باغی تنظيم رمضان کے مقدس مہينے کا بھی کوئی احترام نہيں کرتی۔‘‘

دوسری طرف حکومتی دستوں اور افريقی يونين کی فوج پرمسلسل يہ الزام بھی لگايا جاتا ہے کہ وہ شہری علاقوں ميں قائم باغيوں کے ٹھکانوں پر جو حملے کرتے ہیں، ان کے نتيجے ميں بڑی تعداد ميں شہری ہلا ہو رہے ہيں۔

Somalia Soldaten aus Äthiopien in Mogadishu

ايتھوپيا کے فوجی موغاديشو ميں

افريقی يونين يہ عزم ظاہر کر چکی ہے کہ وہ صومالیہ میں اپنے فوجی دستوں کی تعداد میں مزيد کئی ہزار کا اضافہ کر کے الشباب ملیشیا کے کارکنوں کو موغاديشو سے باہر نکال دے گی۔

الشباب کا دعویٰ ہے کہ اس کے دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے ساتھ رابطے ہيں۔ اس تنظیم نے ابھی حال ہی ميں صوماليہ سے باہر پہلی عسکریت پسندانہ کارروائی کرتے ہوئے يوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا ميں دو بم حملے بھی کئے تھے، جن ميں 76 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

صوماليہ سن 1991 ميں سعید بارے کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے انتشار کا شکار ہے۔ سن 2007 سے جاری حاليہ بغاوت کا آغاز صوماليہ ميں شدت پسندوں کی حکومت کے خاتمے کے لئے ايتھوپيا کی طرف سے فوجی مداخلت کے بعد ہوا تھا۔

صوماليہ ميں جاری اسی انتشار کی وجہ سے افغانستان، پاکستان، خليج کے ممالک اور برطانيہ اور امريکہ سے بھی اب عسکريت پسند وہاں پہنچ رہے ہیں۔ اندازہ ہے کہ اس وقت اس افریقی ملک ميں تقريباً دو ہزار غير ملکی جنگجو موجود ہيں، جو مقامی عسکريت پسندوں کو تربيت اور مالی مدد بھی فراہم کرتے ہيں۔

رپورٹ: شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس