1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صومالیہ میں جھڑپیں، ہزاروں شہری مہاجرت پر مجبور

اقوام متحدہ کے ذرائع کے بقول خانہ جنگی اور غربت کے شکار افریقی ملک صومالیہ میں اسلام پسند باغیوں اور حکومت نواز گروپوں کے مابین تازہ لڑائی کے باعث 63 ہزار سے زائد شہری جانیں بچانے کے لئے اپنے گھروں کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔

default

صومالی دارالحکومت میں ایک مسلح میلیشیا کے ارکان، فائل فوٹو

یہ بات جنیوا میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی خاتون ترجمان میلیسا فلیمنگ نے منگل کے روز صحافیوں کو بتائی۔ انہوں نے کہا کہ سال رواں کے صرف پہلے چند ہفتوں کے دوران صومالیہ میں عام شہریوں کو باغیوں اور حکومت نواز مسلح گروپوں کے مابین جھڑپوں کی وجہ سے اپنی سلامتی کے حوالے سے اتنے زیادہ خطرات لاحق رہے کہ اب تک متاثرہ علاقوں کے 63 ہزار سے زائد شہری اپنے گھروں اور آبائی علاقوں سے دوسرے مقامات کی طرف رخصت ہو چکے ہیں۔

میلیسا فلیمنگ کے بقول صومالیہ کا شمار ابھی بھی دنیا بھر میں شدید ترین بحرانوں کے شکار علاقوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں اب تک 1.5 ملین شہری اندرون ملک مہاجرت پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ پانچ لاکھ سے زائد ہمسایہ ریاستوں میں پناہ گزین ہیں۔

بلدوین وسطی صومالیہ کا ایک ایسا شہر ہے جہاں حکومت نواز اہل سنت والجماعت نامی گروپ کی شدت پسند مسلمانوں کی تنظیم حزب الاسلام کے ساتھ لڑائی ماضی میں طویل عرصے تک جاری رہی۔ اس علاقے کے قریب ہی حزب الاسلام کی حامی الشباب نامی اس تنظیم کے خلاف بھی مسلح کارروائیاں کی جا رہی ہیں جس پر مغربی دنیا کی طرف سے القاعدہ کے ساتھ قریبی رابطوں کا الزام لگایا جاتا ہے۔

Somalia islamistischer Miliz in Mogadischu Kämpfe

الشباب نامی عسکریت پسند تنظیم کی حامی حزب الاسلام کے دو مسلح ارکان

صومالیہ میں حزب الاسلام اور الشباب، باغیوں کے ان دونوں مسلح گروپوں کی کوشش ہے کہ وہ ملک میں مغربی دنیاکی حمایت یافتہ اس مرکزی حکومت کو اقتدار سے علیحدہ کر دیں جو انتہائی کمزور ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مجاہرین کی ترجمان کے مطابق سال رواں کے دوران اب تک اس علاقے میں ہو نے والی لڑائی میں قریب 150 افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔ انہوں نے اپیل کی کہ عالمی برادری کو ان مہاجرین کی مدد کے لئے فوری طور پر خیمے، اشیائے خوراک اور حفظان صحت کا سامان مہیا کرنا چاہیے۔

صومالیہ 1991 میں اس دور کے ڈکٹیٹر محمد سعید بارے کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے مسلسل انتشار کا شکار ہے۔ اس ملک کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب احمدو عبداللہ نے ابھی حال ہی میں کہا تھا کہ قرن افریقہ کے علاقے میں پایا جانے والا یہ تنازعہ ایک ایسا عالمگیر مسئلہ بن چکا ہے جسے مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس افریقی ریاست میں بدامنی کی موجودہ لہر 2007 کے اوائل میں اس وقت شرو ع ہوئی تھی جب ایتھوپیا نے صومالیہ میں فوجی مداخلت کی تھی۔ تب اس مداخلت کا مقصد اس اسلام پسند حکومت کو اقتدار سے علیحدہ کرنا تھا جو محض چھ ماہ پہلے 2006 میں برسراقتدار آئی تھی۔ صومالیہ میں قریب تین سال قبل دوبارہ شروع ہونے والی خونریزی کی اس لہر میں اب تک 19 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM