1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صومالیہ میں بم دھماکہ

موغادیشو میں گذشتہ روز ایک خودکش بم دھماکے میں سات افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں چھ پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ صومالیہ میں تشدد کی لہر شدت اختیار کرتی جارہی ہے اور پچھلے تین دنوں میں 53 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

default

اسلامی عسکریت پسندتنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی

موغادیشو میں ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری ایک اسلامی شدت پسند تنظیم الشباب نے قبول کی ہے۔ اس تنظیم نے آنے والے دنوں میں مزید خودکش حملوں کی دھمکی بھی دی ہے۔ الشباب کا موقف ہے کہ وہ پہلے سے نافذ اسلامی قوانین کی جگہ ملک میں شریعہ کا سخت ترین نفاذ چاہتے ہیں۔ اس اسلامی تنظیم پر القاعدہ کے ساتھ تعلق کے بھی شبہات موجود ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ صومالی حکومت کے خلاف دو اسلامی تنظیمیں مل کر بغاوت میں کر رہی ہیں۔ دارلحکومت موغادیشو میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران دہشت گردی کی کارروائیوں میں 200 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ صومالی صدر شریف شیخ احمد نے ملک میں امن و امان کی ابتر صورتحال کی ذمہ داری دوسرے ممالک پر ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی جنگجو ملک میں ہونے والی ان لڑائیوں میں ملوث ہیں۔

اقوام متحدہ کے صومالیہ کے لئے خصوصی مندوب احمدو عبداللہ نے کہا کہ صومالیہ میں امن و امان کی صورت حال عالمی براداری کے لئے تشویش کا باعث ہے۔

’’افریقی یونین نے 1999 اور 2000 میں ہونے والے اجلاس میں صومالیہ میں تشدد کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے کی شدید مذمت کی تھی۔ اس بغاوت کی پشت پناہی کون سا ملک کر رہا ہے میں اس کی بات نہیں کروں گا۔ بلکہ یہ کہوں گا کہ صومالی عسکریت پسند طاقت کے زور پر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور اس امر کی مذمت پوری دنیا کرتی ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے مطابق اب تک ہزاروں غیر ملکی عسکریت پسندوں نے صومالی باغیوں کا ساتھ دینا شروع کردیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ کچھ عرب نسل کے باشندے ’مغرب نواز‘ کہلانے والی اس حکومت کے خلاف ہیں اور اسی لئے صومالیہ کا رخ کررہے ہیں۔

پچھلے دو برسوں میں باغیوں اور حکومت کے درمیان اس لڑائی میں اب تک 17000 سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال سے پریشان اب تک 60 ہزار افراد اس ماہ موغادیشو سے ہجرت کرچکے ہیں۔ اس دوران ابھی تک کی سب سے بڑی ہجرت گذشتہ جمعے کے روز دیکھی گئی جب متاثرہ علاقے سے کوئی 8000 افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔ دوسری جانب خلیج عدن میں قزاقی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے بھی صومالیہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

DW.COM