1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صومالیہ میں امن قائم کرنے کی نئی کوششیں

افریقی ملک صومالیہ میں انتشار اور افراتفری کو برسوں بیت گئے ہیں۔ اس دوران سات سال سے قائم عبوری حکومت بھی ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے۔ اب صومالی لیڈرز امن و سلامتی کے لیے نئی کوششیں شروع کرنا چاہتے ہیں۔

default

صومالی صدر ایک کانفرنس میں

صومالیہ میں وفاقی عبوری حکومت کی مدت گزشتہ ماہ ختم ہو رہی تھی لیکن صدر شیخ شریف شیخ احمد اور اسپیکر شریف حسن شیخ عدن نے یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں ایک مفاہمت پر دستخط کرتے ہوئے اس کی مدت میں ایک سال کی توسیع کردی۔ دونوں صومالی لیڈروں نے ڈیل پر دستخط ماہِ جون میں کیے تھے۔ اس توسیع کے بعد صومالیہ میں امن وسلامتی کے قیام کے سلسلے میں تین روزہ بات چیت کا عمل بھی اتوار چار ستمبر سے شروع ہو چکا ہے۔

صومالیہ کے بڑے شہر موغادیشو میں تین روزہ بات چیت کا مقصد ملک کے طول و عرض میں سکیورٹی صورت حال کو بہتر بنانے کے علاوہ قومی مصالحتی عمل کو فروغ دینا بھی ہے۔ اس مذاکراتی عمل کے دوران صومالی لیڈران مالک کے لیے نئے دستور، بہتر حکومت سازی اور پارلیمانی اصلاحات پر بھی توجہ مرکوز کریں گے۔

NO FLASH Türkischer Regierungschef Erdogan besucht Somalia

شیخ شریف احمد اور ترک وزیر اعظم رجب طیب ایروان

تین روزہ بات چیت کے موقع پر صومالیہ کے صدر شیخ شریف احمد نے مذاکراتی عمل کو ایک تاریخی موقع قرار دیا۔ صومالی صدر کے ساتھ بات چیت میں صومالیہ سے علیحدگی اختیار کرنے والے علاقے پنٹ لینڈ کے صدر ابراہیم محمد محمود کے علاوہ نیم خود مختار علاقے وسطی گلمودوگ (Galmudug) کے لیڈر اور صومالی صدر کی حامی صوفی ملیشیا اہل سنت والجماعت کے اراکین بھی شریک ہیں۔ بات چیت کے اس عمل کو اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کے صومالیہ کے لیے مقرر خصوصی نمائندے آگسٹینے مہیگا (Augustine Mahiga) کا کہنا ہے کہ صومالیہ میں امن وسلامتی کے لیے ترجیحات طے کرنے کے لیے ایک سال کا قلیل وقت ہے اور اس میں روڈ میپ تیار کرنا ہو گا کہ کس طرح صومالیہ میں صورت حال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ مہیگا کے مطابق اس دفعہ روڈ میپ میں وقت کی پابندی اور طے شدہ معاملات پر باقاعدہ عمل کرنے کا خاص خیال رکھا جائے گا کیونکہ ماضی میں ایسا نہیں کیا گیا۔

Flash-Galerie Türkischer Regierungschef Erdogan besucht Somalia

صومالیہ کے سکیورٹی دستوں کو تربیت کی ضرورت ہے

تین روزہ بات چیت میں سن  1991میں علیحدگی اختیار کرنے والے علاقے صومالی لینڈ کے علاوہ القاعدہ سے متاثر انتہاپسند الشباب گروپ کے نمائندے شریک نہیں ہیں۔ الشباب نے تو حلف اٹھا رکھا ہے کہ وہ حکومت کا خاتمہ کر کے دم لے گا۔ موغادیشو کے وسیع علاقے پر اسی انتہاپسند گروپ کا راج ہے۔

 صومالیہ میں امن و سلامتی اور مصالحت کے لیے سن 2004 میں پانچ سال کے لیے وفاقی عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کی مدد اور معاونت کے لیے افریقی یونین کے نو ہزار فوجی بھی صومالیہ میں تعینات ہیں۔

قرن افریقہ کا ملک صومالیہ سن 1991سے محمد زیاد بارے کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔ خانہ جنگی کی وجہ سے سارا ملک بے شمار مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ بے شمار علاقوں میں قحط کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ ہزاروں لوگ بے گھری کا شکار ہیں۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس