1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صومالیہ: حکومتی فورسز اور الشباب کے درمیان لڑائی جاری

صومالی حکومت کی حمایتی فورسزز نے آج جمعرات کے روز دارالحکومت موغادیشو سے دو سو کلو میٹر شمال میں واقع بولو باردے نامی علاقے میں ’الشباب‘ کے خلاف آپریشن کیا۔ اس تازہ آپریشن میں 21 افراد ہلاک ہوئے۔

default

صومالیہ میں الشباب عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری

صومالی فوج نے مقامی شہریوں کی ملیشیا کی مدد سے ملک میں عسکریت پسندوں کے سب سے بڑے نیٹ ورک ’الشباب‘ کے ٹھکانوں پر بولو باردے کے علاقے میں حملہ کیا۔ مذکورہ علاقہ گزشتہ کئی عرصے سے الشباب عسکریت پسندوں کنٹرول میں تھا۔ الشباب صومالیہ کی وہ تنظیم ہے جس کے القاعدہ سے قریبی تعلقات بھی بتائے جاتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق صومالی دستے اور اہل سنت والجماعت نامی روشن خیال تنطیم کے کارکنوں کی الشباب جنگجوؤں سے ملک کی جنوبی اور وسطی علاقوں میں لڑائی جاری ہے۔ صومالی صدر شریف احمد کی حمایتی ملیشیا نے اس ہفتے کے آغاز میں الشباب کے خلاف ملک کے جنوبی علاقوں میں کامیاب کارروائیاں کی تھیں اور الشباب کے دو مرکزی علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا تاہم جمعرات کے روز الشباب عسکریت پسندوں نے اپنے علاقوں کا کنٹرول واپس حاصل کرلیا ہے۔ الشباب کے ایک کمانڈر شیخ محمد ابراھیم نے دعویٰ کیا کہ آج ان کے ساتھیوں نے حکومتی فورسز کا حملہ پسپا کردیا ہے۔

Somalia in distress

صومالیہ میں دو سال سے جاری خانہ جنگی سے ایک ملین شہری بے گھر ہوچکے ہیں

صومالی فوج کے کرنل یوسف محمد کے مطابق بولو باردے کے مختلف حصوں میں ابھی تک لڑائی جاری ہے، جس میں 21 افراد مارے جاچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صومالی فورسزز کے اس حملے میں عسکریت پسندوں کو کافی زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ الشباب کے ترجمان شیخ عثمان نے الزام لگایا ہے کہ پڑوسی ملک ایتھیوپیا کی افواج اس آپریشن میں صومالی حکومت کی معاونت کر رہی ہیں۔ ایتھیوپیا کی حکومت نے اس الزام کو رد کردیا ہے۔

اسی دوران ایک اور صومالی عسکریت پسند تنظیم حزب الاسلام نے بھی اپنے ایک مرکزی علاقے لوُق کا کنٹرول حکومتی ملیشیا سے واپس چھین لیا ہے۔ لُوق پر حکومت نواز فورسزز نے کل قبضہ کیا تھا۔ صومالیہ میں گزشتہ دو سال کے سے جاری خانہ جنگی میں 18 ہزار شہری ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ ایک ملین سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

صومالی قانون سازوں نے کل بدھ کے روز ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صومالی صدر کے پاس باغیوں سے نمٹنے کے لئے اور اس ضمن میں فوری فیصلے کرنے کے مکمل اختیارات مل گئے ہیں۔

رپورٹ: انعام حسن

ادارت: عاطف بلوچ