1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صوفی محمد کی رہائی کے احکامات

پاکستانی طالبان کے حامی لیڈر مولانا صوفی محمد کے رواں ہفتے جیل سے رہا کیے جانے کی توقع ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے، جب افغان طالبان کے حوالے سے امریکا اور پاکستان کے مابین سفارتی کشیدگی بڑھ چکی ہے۔

مولانا صوفی محمد اس وقت پاکستان کی ایک جیل میں قید ہیں اور انہیں غداری سمیت متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔ پیر آٹھ جنوری کے روز صوبے خیبر پختونخوا کی ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کے احکامات جاری کر دیے تھے۔ عدالت کے ایک اہلکار امجد خان کا جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صوفی محمد کی رہائی کے احکامات ان کی خراب صحت کی وجہ سے جاری کیے گئے ہیں۔

قریب نوے سالہ صوفی محمد کے وکیل صفائی فدا گل کا  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کی رہائی کے حوالے سے کاغذات تیار کیے جا رہے ہیں اور انہیں رواں ہفتے کے اختتام تک رہا کیا جا سکتا ہے۔

امریکا نے پاکستان کے لیے کروڑوں ڈالر کی عسکری امداد روک دی

افغانستان میں امریکی فوجی مداخلت کے بعد صوفی محمد تقریباﹰ اپنے دس ہزار حامیوں کے ہمراہ افغانستان گئے تھے تاکہ وہاں افغان طالبان کے شانہ بشانہ امریکا کے خلاف لڑائی میں حصہ لیں سکیں۔ پاکستان میں صوفی محمد کی رہائی سے متعلق قدم ایک ایسے وقت پر اٹھایا جا رہا ہے، جب امریکا نے یہ دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر اسلام آباد حکومت نے ملکی سرزمین پر عسکریت پسندوں کے خلاف ایکشن نہ لیا تو پاکستان کے لیے تمام سکیورٹی امداد بند کر دی جائے گی۔ امریکا پاکستان کے لیے یہ امداد گزشتہ ہفتے سے معطل کر چکا ہے۔

پاکستانی رویے میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی، اعلیٰ امریکی جنرل

صوبے خیبر پختونخوا میں تحریک نفاذ شریعت محمدی کے حوالے سے شہرت پانے والے مذہبی رہنما صوفی محمد سن دو ہزار نو سے زیر حراست ہیں اور وہ پاکستانی طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کے سسر بھی ہیں۔

سن دو ہزار سات میں وادی سوات میں جنم لینے والی انتہا پسندانہ تحریک میں بھی صوفی محمد کا کردار مرکزی نوعیت کا تھا۔ ان کو مقامی لوگ اس تحریک کے دوران کافی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اس مزاحمتی تحریک کو بعد میں پاکستانی فوج کے ایک خصوصی آپریشن میں اپریل  دو ہزار نو میں ختم کر دیا گیا تھا۔

DW.COM