1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

صوفیہ بن گئی سمیع اللہ مگر قدم قدم پر چیلنجز

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کی رہائشی اٹھارہ سالہ صوفیہ لڑکا بن گئی۔ زندگی کے ابتدائی سال گھر کے چاردیواری میں گزارنے والی صوفیہ کو اب سمیع اللہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے سمیع اللہ کا کہنا تھا کہ آپریشن سے قبل ان کو کافی عرصہ سے جسم میں شدید درد اور تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔ مختلف ڈاکٹروں سے علاج کرانے پر ان کو اس بات کا پہلے ہی سے بتا دیا گیا تھا کہ کہ ان کے جنس میں تبدیلی رونما ہورہی ہے، ’’میں اس بات سے کسی حد تک خوش تھا، لیکن آپریشن سے ڈر لگ رہا تھا۔‘‘

سمیع اللہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے، ان کے والد عزیز اللہ ایک ٹریکٹر ڈرائیور ہیں۔ آپریشن سے قبل سمیع اللہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی بہن تھی۔ ان کے والد عزیز اللہ کے مطابق، شروع ہی سے صوفیہ کے عادات اور حرکات مردانہ تھیں اور وہ منع کرنے کے باوجود گھر پر ہر قسم کے مشقت اور زور والے کام شوق سے کیا کرتی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ غربت او افلاس کی وجہ سے وہ سمیع اللہ کا آپریشن بر وقت نہ کرا سکے۔

تعلیم کے دوران صوفیہ کی بیس سہیلیاں تھیں

تعلیم کے دوران صوفیہ کی بیس سہیلیاں تھیں

مگر بیٹی کی شدید درد اور تکلیف نے ان کو تین لاکھ روپے ادھار لینے پر مجبور کردیا اور ان کا آپریشن کروایا جس سے صوفیہ لڑکی سے لڑکا بن گیا۔ ان کے والد کے بقول، ’’مجھے بے حد خوشی ہے کہ سیع اللہ اب بیٹی کے بجائے میرا بڑا بیٹا ہے۔‘‘

سہیلیاں اور پرانے مشغلے سب ختم

صوفیہ ایک مقامی مدرسہ میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کررہی تھی۔ ان کے معلم حافظ حامد اللہ کہتے ہیں کہ وہ معمول کے مطابق بنات مدرسہ میں دوسرے لڑکیوں کے ساتھ دینی تعلیم حاصل کررہی تھی۔ تعلیم کے دوران صوفیہ کی بیس سہیلیاں تھیں، جس کے ساتھ اس کا اٹھنا بیٹھنا تھا۔ لیکن ایک پشتون معاشرے کا حصہ ہوتے اب سمیع اللہ ان کے ساتھ مل نہیں سکتا، کیونکہ وہ تمام سہلیاں اب اس کے لیے نامحرم ہوچکے ہیں۔ سمیع اللہ اور اس کا خاندان اگرچہ اس کے جنس تبدیل ہونے پر خوش ہیں، لیکن وہ اب تک یہ فیصلہ نہیں کرسکیں کہ سمیع اللہ مستقبل میں کیا کرے گا؟ تاہم سمیع اللہ اسکول میں داخلہ لینے کا خواہشمد ہے۔

سمیع اللہ کے چچا عاصم خان کہتے ہیں کہ آپریشن کے چند ہی روز بعد سمیع اللہ نے گھر سے باہر اپنے چچازاد بھائیوں کے ساتھ ملنا ملانا اور کھیلنا شروع کردیا۔ ’’اب وہ ہر وقت باہر کھیلتا رہتا ہے، جیسے اس کو اٹھارہ سال بعد آزادی مل گئی ہو۔‘‘ سمیع اللہ کہتے ہیں کہ ان کو بہت شوق ہوتا تھا کہ وہ بھی لڑکوں کی طرح پتنگ اڑائیں، ''گزشتہ چار دنوں سے میں اپنے کزن کے ساتھ گھر کی چھت پر پتنگ اڑاتا رہا ہوں، اگر میں صوفیہ ہوتی تو شاید ایسا نہ کرسکتی۔‘‘

سمیع اللہ کے لیے نئے چیلنجز

سینیئر سرجن ڈاکٹرمیاں توصیف الدین کہتے ہیں کہ یہ ایک قدرتی تبدیلی ہوتی ہے اور ایسے میں لڑکیوں میں ہارمونز لیول اور حرکات و سکنات مردوں جیسی ہوتی ہے اور جنس کو تبدیل کرنے کے لیے ایک آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے، ’’ایسے افراد کی جنس تبدیل تو ہوجاتی ہے، لیکن تبدیل شدہ اعضاء قدرتی اعضاء کے مقابلے میں کمزور ہوتے ہیں۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں بہتری آسکتی ہے۔‘‘

لڑکا بننے سے پہلے صوفیہ کی تمام دستاویزات اور کوائف خواتین کی لسٹ میں تھے، اب ان سب کو تبدیل کرنا بھی ان کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ تاہم ماہر قانون ایڈوکیٹ نہال تبسم اس بارے میں کہتی ہیں، ’’صوفیہ کی جنس کی تبدیلی قدرتی ہے اس لیے کوائف میں تبدیلی انسانی حقوق کے مطابق ہوگی۔ ڈاکٹر یا ہسپتال کی طرف سے جاری کردہ سرٹیفیکیٹ کی مدد سے قومی شناختی کارڈ اور دیگر کوائف میں تبدیلی سمیع اللہ کا قانونی حق ہے۔‘‘

سمیع اللہ ڈی ڈبلیو کے نمائندے دانش بابر سے گفتگو کرتے ہوئے

سمیع اللہ ڈی ڈبلیو کے نمائندے دانش بابر سے گفتگو کرتے ہوئے

سمیع اللہ کے ایک قریبی رشتہ دار کا نام محفی رکھنے کی درخواست کے ساتھ کہنا ہے، ’’سمیع اللہ کے لیے باہر کی دنیا بالکل نئی ہے۔ وہ گھر سے باہر گھوم پھر ضرور رہا ہے، لیکن ڈر ہے کہ سمیع اللہ اس معاشرے میں خود کونئی صورت میں ایڈجسٹ کر پائے گا یا نہیں؟‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کرشمے سے خاندان کا ہر فرد خوش ہے، لیکن کیا مستقبل میں لوگ سمیع اللہ کو قبول کریں گے؟ کیا لوگ اس کے ماضی کو بھول جائیں گے؟ کیا لوگ اس کو تنگ نہیں کریں گے؟ سمیع اللہ کو ان سب کا مقابلہ کرنا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ سمیع اللہ میں لڑکیوں کی طرح جھجک اور شرم اب بھی موجود ہے، جس کے بارے میں وہ کافی فکرمند ہے۔