1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’صوبہ پنجاب‘‘ نئے ڈرگ ایکٹ کے خلاف ہڑتال، مریض پریشان

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ادویات کے کاروبار سے وابستہ مختلف ایسوسی ایشنز کی اپیل پر آج ہڑتال کی جا رہی ہے ، جس میں ادویات بنانے والے ادارے، ادویات کے ڈسٹری بیوٹرز اور میڈیکل اسٹورز کے مالکان بھی شامل ہیں۔

 لاہور کے علاوہ ملتان، منڈی بہاؤالدین، چیچہ وطنی، سرگودھا، راولپنڈی اور دیگر علاقوں سے بھی احتجاجی مظاہروں اور ہڑتال کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ ادویات ساز اداروں کی ہڑتال کی وجہ سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ لاہور کے چار بڑے ہسپتالوں کے باہر میڈیکل اسٹورز بند ہیں اور ہڑتال کے بینر نظر آ رہے ہیں۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے جارہے ہیں جبکہ سینکڑوں احتجاجی مظاہرین نے پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا بھی دیا ہے۔ احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے 1976ء کے ڈرگ ایکٹ میں تبدیلیاں کر کے حال ہی میں جو قانون منظور کیا ہے اس میں دوائیوں کے کاروبار سے وابستہ افراد پر ایسی شرائط اور پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن کے باعث ان کے لیے کاروبار کو جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

اُدھر لاہور میں پنجاب کے وزیرِ صحت عمران نذیر نے صحافیوں کو بتایا کہ ڈرگ انسپکٹر کے ذریعے میڈیکل اسٹورز کھلوانے کے لیے ایک بڑے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان کے بقول میڈیکل اسٹور کھولنے والے دکانداروں کو حکومت تحفظ فراہم کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر پرائمری ہیلتھ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ حکومت غیر معیاری اور جعلی ادویات کی فروخت کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور احتجاج کر نے والے وہ لوگ ہیں وہ مریضوں کو معیاری ادویات کی فراہمی نہیں چاہتے۔ ادھر پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں قائم کیے گئے میڈیکل اسٹورز چوبیس گھنٹے کھلے رکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کر تے ہوئے پاکستان فارما سیوٹیکل ایسوسی ایشن نارتھ زون کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر اعظم نے بتایا کہ حکومت نے دوا ساز اداروں کی مشاورت کے بغیر بیوروکریسی کی ساز باز سے ڈرگ ایکٹ میں جو تبدیلیاں کی ہیں وہ انتہائی غیر منصفانہ ہیں۔ ان کے خیال میں پنجاب حکومت ایسی تبدیلیاں کر نےکا اختیار ہی نہیں رکھتی۔ ڈاکٹر طاہر کا یہ بھی کہنا تھا کہ پنجاب حکومت گلی محلوں میں غیر معیاری ادویات بنانے والوں اور لائسنس یافتہ رجسٹرڈ ادویات ساز کمپنیوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا چاہتی ہے، جو کہ درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا،’’ہم غیر معیاری ادویات بنانے والوں کو سخت سزا دینے کے حامی ہیں لیکن حکومت اپنی من مانی سے باز آئے۔‘‘

 ڈاکٹر طاہر کا مزید یہ بھی کہنا تھا،’’ان کی ہڑتال کو ختم کرانے کے لیے وزیر اعلیٰ نے ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ملاقات تک کرنا پسند نہیں کی اور نہ ہی ہمارے مسائل کے حل کے لیے سوموار کی دوپہر تک کوئی یقین دہانی کر وائی گئی۔‘‘ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ اس ہڑتال سے پہلے ہم نے حکومت کو کئی مرتبہ خبردار بھی کیا تھا۔ اب اگر ادویات کے بحران کی وجہ سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔ یاد رہے لاہور میں دوائیں تیار اور فروخت کرنے والوں کی تنظیمیں ہڑتال کے معاملے پر دو دھڑوں میں بٹ گئی ہیں۔ ایک گروپ نے حکومت سے مذاکرات کے بعد اپنی ہڑتال بھی بیس فروری تک موخر کر دی ہے جبکہ دواساز کمپنیاں ڈرگ ایکٹ کے خلاف ہڑتال کے فیصلے پر قائم ہیں۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ نئے ڈرگ ایکٹ کے تحت غیر معیاری دوا سازی پر پانچ سال تک قید اور پانچ کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا رکھی گئی ہے۔ ادھر سندھ میں بھی دوا ساز اداروں نے اس ہڑتال میں شامل ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ کراچی کے بعض علاقوں میں سوموار کے روز بھی ادویات کے ہول سیل مارکیٹ بڑی حد تک بند رہیں۔ اس ہڑتال کے باعث ملک کے بعض علاقوں میں دواؤں کی قلت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ اس سے پہلے پنجاب میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے اسکینڈل منظر عام پر آتے رہے ہیں۔ پاکستان کی سپریم کورٹ دل کے آپریشن میں استعمال ہونے والے غیر معیاری سٹنٹ کے حوالے سے آجکل تحقیقات کر رہی ہے۔ پاکستان میں بعض میڈیکل اسٹورز پر کام کرنے  والے ڈاکٹرز کی تجویز کردہ ادویات اپنی مرضی سے بدل دیتے ہیں اور معیار کے حوالے سے بھی لوگوں میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اب تازہ ہڑتال کی وجہ سے عام لوگوں کی مشکلات میں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔