1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صوبہ سرحد کے ایک مہاجر کیمپ کا احوال

پاکستانی صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں باجوڈ، سوات اور مہمند ایجنسی میں سیکیوریٹی فورسز کے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کی وجہ سے لاکھوں لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں

default

صوبائی حکومت اور غیر سرکاری اداروں نے متاثرین کے لئے مردان، نوشہرہ اور دیر میں امدادی کیمپ قائم کئے ہیں تاہم سب سے بڑا کیمپ پشاور کے علاقے کچی گڑھی میں بنایا گیا ہے

صرف باجوڈ ایجنسی سے ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔ صوبائی حکومت اور

Afghanisches Flüchtlingslager in Pakistan

کیمپ میں خراب اور نا پختہ انتظامات کی وجہ سے شدید سردی کے موسم میں بچوں کو کھانسی اور بخار جیسی بیماریوں نے گھیر رکھا ہے

غیر سرکاری اداروں نے متاثرین کے لئے مردان، نوشہرہ اور دیر میں امدادی کیمپ قائم کئے ہیں تاہم سب سے بڑا کیمپ پشاور کے علاقے کچی گڑھی میں بنایا گیا ہے جہاں اب تک دس ہزار سے زائد خاندانوں کو عالمی اداروں کے تعاون سے رجسٹرڈ کیا جا چکا ہے۔

اگرچہ حکومت نے ان متاثرین کی تمام مشکلات حل کرنے کے دعوے کئے ہیں تاہم جہاں ان خاندانوں کی رجسٹریشن میں مسائل سامنے آئے وہاں ان کی امدادی اشیاء کی تقسیم کے دوران منتظمین اور متاثر کے مابین تلخ کلامی بھی روز کا معمول بن چکی ہے۔

متاثرین نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ انہیں یہاں غیرصحت بخش اشیاء خوراک کی وجہ سے بیماریوں کا بھی سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمپ میں مہیا کی جانے والی ناقص اشیاء میں آٹا اوردالیں سر فہرست ہیں۔

متاثرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیمپ میں خراب اور نا پختہ انتظامات کی وجہ سے شدید سردی کے موسم میں بچوں کو کھانسی اور بخار جیسی بیماریوں نے گھیر رکھا ہے اور سردی سے بچاؤ کے لئے موثر انتظامات نہیں کئے جا رہے۔

متاثرین نے اصرار کیا کہ جلد از جلد ان کے علاقوں میں امن قائم کیا جائے تاکہ وہ لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔