1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

صوبائی انتخابات میں ناکامی کا سبب، ’میرکل کی مہاجر دوست پالیسی‘

گزشتہ برس موسم گرما میں جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کا والہانہ استقبال کیا گیا تھا لیکن اب یورپی ووٹرز مہاجرت مخالف سیاسی پارٹیوں کو منتخب کر کے ایک نیا پیغام دے رہے ہیں۔

’خوش آمدید‘ سے ’بس بہت ہو چکا‘ یہ ہے کہانی جرمنی میں مہاجرین کے لیے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق جرمنی میں مہاجرین کی حکومتی پالیسی پر ناخوش بہت سے ووٹرز نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو پیغام دیا ہے کہ وہ اس تناظر میں اپنے موقف میں تبدیلی لائیں۔ اس کی ایک واضح مثال جرمنی کے تین صوبوں میں ہونے والے حالیہ الیکشن بھی ہیں۔

مہاجر دوست سیاست میرکل کی، لیکن فیصلہ صوبائی ووٹر کریں گے

اے ایف ڈی سماجی تقسیم اور تعصب کو فروغ دے رہی ہے، میرکل

جرمنی کے تین صوبوں میں ہونے والے علاقائی انتخابات میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی اینٹی امیگریشن پارٹی ’متبادل برائے جرمنی‘ AfD نے نمایاں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اتوار تیرہ مارچ کو ہوئے ان انتخابات میں تین میں سے دو صوبوں میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ ناقدین کے مطابق میرکل کی یہ شکست ان کی مہاجرین کی پالیسی سے جڑی ہوئی ہے۔

سیکسنی انہالٹ، باڈن ورٹمبرگ اور رائن لینڈ پلاٹینیٹ کے ریاستی انتخابات کو برسراقتدار سیاسی اتحاد کے لیے پہلے سے ہی ایک چیلنج قرار دیا جا رہا تھا۔ اب سرکاری نتائج نے مہر ثبت کر دی ہے کہ بہت سے لوگ میرکل کی مہاجر دوست پالیسی سے ناخوش ہیں۔

مشرقی صوبے سیکسنی انہالٹ میں اے ایف ڈی نے 24.2 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ یوں یہ مہاجرت مخالف سیاسی پارٹی اس صوبے میں دوسری سب سے بڑی سیاسی طاقت بن کر ابھری ہے۔ میرکل کی سیاسی جماعت سی ڈی یو کی عوامی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے لیکن وہ پھر بھی اس صوبے میں سب سے زیادہ 29.8 فیصد ووٹرز حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

سیکسنی انہالٹ میں تیسرے نمبر پر لیفٹ پارٹی رہی، جس نے 16.3 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ جرمن مخلوظ حکومت میں شامل سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) پر صرف 10.6 فیصد ووٹرز نے اعتماد ظاہر کیا ہے۔ اس صوبے کے وزیرا علیٰ Reiner Haseloff نے البتہ کیا ہے کہ وہ سیکسنی انہالٹ میں حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔

مغربی صوبے رائن لینڈ پلاٹینیٹ میں سوشل ڈیموکریٹ اپنی اکثریت قائم رکھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ 36.2 فیصد ووٹرز نے اس پارٹی پر حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اس صوبے میں میرکل کی سیاسی جماعت سی ڈی یو کی مقبولیت میں تین فیصد کمی ہوئی ہے اور اسے ملنے والے ووٹوں کا تناسب 31.8 فیصد بنتا ہے۔ اس صوبے میں بھی ایف ڈی نے اپنی حمایت میں اضافہ کیا ہے۔ اسے 12.6 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔

باڈن ورٹمبرگ میں گرین پارٹی 30.1 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اس صوبے میں سن 2011 تک میرکل کی پارٹی چھ عشروں تک اقتدار میں رہی تھی۔ لیکن اب اتوار کے انتخابات میں اس پارٹی کی مقبولیت میں ڈرامائی طور پر مزید گیارہ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ یوں میرکل کی پارٹی کو صرف ستائیس فیصد ووٹ پڑے۔

باڈن ورٹمبرگ میں بھی مہاجرت مخالف اے ایف ڈی نے اچھی کارکردگی دکھائی اور 15.1 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل کر لی ہے۔ اس صوبے میں ایس پی ڈی کی مقبولیت میں کمی ہوئی اور اسے 12.7 فیصد ووٹ پڑے۔ سن 2011 میں اس پارٹی کو ملنے والے ووٹوں کا تناسب تئیس فیصد تھا۔

ان تینوں صوبوں میں اپنی عوامی مقبولیت میں اضافہ کرنے والی پارٹی اے ایف ڈی کی رہنما Frauke Petry نے کہا ہے کہ وہ اپوزیشن کے بینچوں پر بیٹھنا پسند کریں گی۔ ایک مقامی ریڈیو کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل ہی ان کی پارٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ حکومت سازی میں شریک نہیں ہو گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان انتخابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہت سے ووٹرز نے پرانی پارٹیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

جرمنی میں مہاجرین مخالف پارٹی کی عوامی حمایت میں اضافہ

’يورپ ميں دائيں بازو کی عواميت پسندی کی لہر ميں اضافہ‘

سیاسی مبصرین نے ان نتائج کو میرکل کے لیے ایک انتباہ قرار دیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ جرمنی میں اب بھی بڑے پیمانے پر مہاجرین کے لیے ہمدردی کا عنصر نمایاں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے یورپی سطح پر ایک جامع پالیسی پر اتفاق رائے ہو جائے تو یہ معاملہ حل بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یورپی رہنما ابھی تک اس تناظر میں مشترل لائحہ عمل اختیار کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔