1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صوابی میں پولیس لائن پر حملہ: تین افراد ہلاک

خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں پولیس لائن پر ہونے والے خودکش دھماکے میں دوپولیس اہلکاروں سمیت تین افراد ہلاک جبکہ آٹھ شدید زخمی ہو گئے۔ صوابی میں یہ اپنی نوعیت کاپہلا حملہ ہے۔

default

حکام کے مطابق حملہ آور چار تھے

اس حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اگرچہ تاحال کسی تنظیم نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم سرکاری حکا م کاکہنا ہےکہ یہ اُن دہشت گردوں کی کارروائی ہوسکتی ہے جن کے خلاف حال ہی میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی ہے ۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور تعداد میں چار تھے جو پولیس لائن اورجوڈیشل کمپلیکس کونشانہ بناناچاہتے تھے۔پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل عبداللہ خان کاکہنا ہے، ” گیٹ پرموجود پولیس اہلکاروں نے جان کی قربانی دےکر بڑی تباہی کاراستہ روکا، ان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد چار تھی، جنہوں نے پولیس لائن کے گیٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک راہگیر اور دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔ ایک حملہ آور نے گیٹ کے ساتھ ہی خودکو دھماکے سے اڑا دیا پولیس کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں دوسراحملہ آور قریبی کھیتوں میں دھماکے سے ہلاک ہوا۔

Lahore Pakistan Anschlag Krankenhaus

پولیس کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں دوسراحملہ آور قریبی کھیتوں میں دھماکے سے ہلاک ہوا

صوابی کی سرحد مالاکنڈ ڈویژن میں بُنیر سے ملتی ہے، جہاں گزشتہ ایک عرصہ سے سکیورٹی فورسز عسکریت پسندوں کے خلاف وقتاً فوقتاً کارروائیوں میں مصرو ف رہتی ہیں۔ تاہم سخت سیکورٹی اقدامات کے باوجود چار خودکش حملہ آوروں کے حساس علاقے تک پہنچ جانے اور ان میں دو کے فرار ہوجانے نے سکیورٹی اقدامات پرسوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

ادھر پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ہونے والےایک مبینہ امریکی ڈرون حملے میں ایک مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور اس میں موجود پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ حملہ تحصیل میر علی کے علاقے حیدر خیل میں کیاگیا۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مرنے والے صرف مقامی لوگ تھے یا ان میں غیرملکی بھی شامل ہیں۔

یورپ اور امریکہ پر شدت پسندوں کے حملوں کے خدشات کے پیش نظر امریکہ نے قبائلی علاقوں بالخصوص شمالی وزیرستان پر ڈورن حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے، جس کی وجہ سے عسکریت پسند بندوبستی علاقوں بالخصوص خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں کوزیادہ تواتر سے نشانہ بنانے لگے ہیں۔

رپورٹ: فریداللہ خان، پشاور

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس