1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

صنف نازک کی حیا کی علامت ،مردوں کے گلے کا پھندا بھی

دوپٹہ صنف نازک کے حجاب یا شرم وحیا کی علامت کے ساتھ ساتھ مردوں کی غیر ضروری توجہ سے بچنے کا ایک موثر طریقہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ عورتیں اسے ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کر سکتی ہیں۔

default

دوپٹہ بھارتی خوایتن کے لباس کا ایک اہم حصہ

تصور کیجئے اگر کسی خاتون پر کوئی مرد حملہ آور ہو تو وہ اپنے دوپٹے کا پھندا بنا کر اُسے گلے سے گھسیٹتے ہوئے زمین پر گرا سکتی ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ کیا بھارت کی حقوق نسواں کے لئے سرگرم ایک خاتون تربیت کار’رادھا شرما‘ نے نئی دہلی میں ایک ’سول تربیتی سیشن‘ کے موقع پر، جہاں ایک پولیس اہلکار خواتین پر چیخ رہا تھا۔ یہ واقعہ نوجوان بھارتی لڑکیوں اور خواتین نے نہ صرف بڑی دلچسپی سے دیکھا بلکہ اس تربیتی مظاہرے کو بے حد سراہا۔ رادھا شرما نے بتایا کہ خواتین کے لئے یہ تربیت حاصل کرنا نہایت اہم ہے کیونکہ وہ جنوبی ایشیائی معاشرے میں رہتی ہیں، جہاں عوامی مقامات پر لڑکیوں اور خواتین کو چھیڑنا، یہاں تک کہ مردوں کی طرف سے خواتین کے ساتھ کھلےعام جنسی زیادتیوں کے واقعات روز مرہ زندگی کا حصہ ہے۔

Indien Wirtschaft Symbolbild Kaufkraft Konsum kaufhaus Moderne inidsche Frauen

مردوں کے حملوں کے خطرات کے باوجود بھارتی شاپنگ سینٹرز پر خواتین کی ریل پیل

بھارت میں خواتین پراکثروبیشتر مردوں کی طرف سے اشتعال انگیز فقرے کسے جاتے ہیں، ان پر جسمانی حملے ہوتے ہیں اور خواتین کے ساتھ مرد حضرات رستہ چلتے، بسوں اورٹرینوں کی بھیڑ میں دست درازی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بھارت کے ’نیشنل کرائم بیورو‘ یا جرائم کے قومی دفتر NCRB کے مطابق محض سال 2008 ء کے اندر بھارت میں خواتین کے خلاف مردوں کی طرف سے کئے جانے والے جرائم کے 2 لاکھ واقعات رونما ہوئے۔

تاہم NCRB کے اہلکاروں نے اس امر کا اقرار کیا ہے کہ خواتین اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں رپورٹ کرنے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ سماجی بدنامی کا ڈر ان کے آڑے آ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی عورتیں بھی اکثر پولیس یا متعلقہ اداروں میں رپورٹ درج کروانے کے بجائے خاموشی سے مردوں کے ان جرائم پر پردہ ڈال دیتی ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ ان کے ایسا کرنے پر معاشرہ ان واقعات کو خواتین کے کلنک کا ٹیکہ بنا دے گا۔

Indien - Fahrrad-Rikschas in Delhi

نئی دہلی کی سڑکوں پر سائیکل رکشہ پر خواتین بھی سوار ہوتی ہیں

بھارتی حکومت کے ایماء پر خواتین کے لئے منعقد کئے جانے والے ذاتی دفاع کے ایک ورکشاپ کے موقع پر ٹرینر رادھا شرما نے خواتین سے کہا’ بہنوں، آپ اپنے دفاع کے لئے آواز بلند کریں، سیکھیں کہ مردوں کے حملوں کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے، آپ مردوں پر جوابی حملہ کرنے کے طریقوں کی تربیت حاصل کریں‘۔

خواتین کے اس تربیتی ورکشاپ کا سلسلہ در اصل سال 2002 ء میں شروع ہوا۔ اس سے استفادہ کیا 70 ہزار خواتین نے جن میں طالبات، گھریلو عورتیں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل تھیں۔ اس کورس کا انعقاد ایک اسکول کے اندر ہوا جس میں دس روز تک عورتوں کو اس بات کی تربیت دی گئی کہ ان پر ہونے والے مردوں کے ممکنہ حملوں میں وہ اپنی جان اور عزت کا دفاع کس طرح کر سکتی ہیں۔ دلچسپ امر یہ کہ موڈرن لباس جیسے کہ ' جینز اور ٹاپ‘ پہننے والی خواتین سے لے کر شلوار قمیض، رنگ برنگی ساڑھیاں یہاں تک کہ ابایا اور اسکارف میں ملبوث خواتین اور لڑکیاں سب ہی اس ورکشاپ میں شامل تھیں۔ ان خواتین کو دی جانے والی تربیت کے چند اہم مشوروں میں مندرجہ ذیل طریقے شامل تھے:

Internationaler Frauentag, Demonstration in New Delhi, Indien

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر نئی دیلی میں عورتوں کا مظاہرہ

عورتوں کا قلم مردوں کی مضبوط جلد اور پٹھوں میں سوراخ کرتا ہوا اندرونی تہ تک چبھ سکتا ہے۔ نوک دار ہئیر پن یا ہینڈ بیگ حملہ آور مردوں کو دھکا دینے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ کبھی کبھی دست درازی کرنے والے مردوں پر گرجدار آواز میں چیخنا، ان کی بدمعاشی کے جواب میں ان کے منہ پر ایک مکّا رسید کرنا بھی بہت کار آمد اور موثر ثابت ہوتا ہے۔

رادھا شرما کے بقول ان کے تربیتی ورکشاپ کا بنیادی پیغام بڑا سادہ سا ہے ’ خواتین کو اپنے دفاع کے لئے ہر وہ حربہ استعمال کرنا چائے جو اس موقع پر ممکن ہو‘۔ چیخنا،کاٹنا، پنجہ مارنا، کوئی نوکیلی چیز چبھانا، مردوں کی کنپٹی پر ہتھیلی سے زوردار تھپڑ مارنا، گھٹنوں پر کک مارنا وغیرہ۔ رادھا شرما کا خیال ہے کہ ان طریقہ کار کا استعمال خواتین کے دفاع کے لئے نہایت اہم ہے۔ خاص طور سے بھارت جیسے معاشرے میں۔ شرما کے مطابق نئی دہلی جیسے بڑے اور کثیرالثقافتی شہر میں بھارت کے دیگر شہروں کے مقابلے میں خواتین کے خلاف جرائم اور عصمت دری کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ : کشور مُصطفیٰ

ادارت : عدنان اسحاق