1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

صرف کشمیر ہی کیوں، بلوچستان کیوں نہیں؟

بلوچ سماجی کارکن الزام عائد کرتے ہیں کہ اسلام آباد حکومت بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ یہ بلوچ کارکنان جرمنی میں ایک لانگ مارچ کر رہے ہیں۔

پاکستانی سماجی کارکنوں کا ایک گروپ مختلف جرمن شہروں میں مارچ کرتے ہوئے پاکستانی فورسز کی جانب سے بلوچستان میں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو ’تشدد کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے‘ کے واقعات پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانے میں مصروف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے پر پاکستانی میڈیا بھی خاموش ہے اور بین الاقوامی میڈیا بھی بلوچوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر چپ سادھے ہوئے ہے۔

بلوچ سماجی کارکنوں کا ’فری بلوچستان مارچ‘ نامی یہ لانگ مارچ 16 جولائی کو مغربی جرمن شہر ڈوسلڈورف سے شروع ہوا جب کہ یہ پیدل مارچ مختلف شہروں میں مظاہرے کرتا ہوا، رفتہ رفتہ برلن پہنچے گا۔ اس دوران اس مارچ کے شرکاء پمفلٹ تقسیم کرتے پھر رہے ہیں، جن میں بلوچستان کا مسئلہ، اس کا کا حل اور وہاں کی موجودہ صورت حال کو موضوع بنایا گیا ہے۔

اس مارچ میں شریک نوجوان بلوچ کارکن نوبت مری کا کہنا ہے، ’’بلوچستان کبھی پاکستان کا حصہ نہیں تھا۔ ہمارے علاقے پر سب سے پہلے برطانیہ نے قبضہ کیا اور اسے تین حصوں میں توڑ دیا۔ تقسیم ہند کے بعد بھی بلوچستان کا مشرقی حصہ ایک آزاد ریاست تھا، جس پر پاکستان نے فوجی طاقت کے ذریعے قبضہ کر لیا۔‘‘

Streik Balutschistan

بلوچستان میں کئی دہائیوں سے علیحدگی پسند متحرک ہیں

ان کا مزید کہنا ہے، ’’ہماری تحریک مکمل طور پر پرامن ہے۔ ہم یورپی شہریوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارے مسائل کیا ہیں۔ ہمیں اپنا بنیادی حق چاہیے۔ ہمیں آزادی چاہیے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا پر بھارت اور پاکستان کے درمیان متنازعہ علاقے کشمیر میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر تو بات ہوتی ہے، تاہم بلوچستان کی بابت مکمل خاموشی ہے۔

وسائل پر قبضہ

بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جب کہ قدرتی وسائل سے مالا مال یہ صوبہ سب سے زیادہ پس ماندہ بھی ہے۔ اس صوبے میں کئی دہائیوں سے متعدد باغی گروہ پاکستان سے علیحدگی کی ایک مسلح تحریک چلا رہے ہیں، جب کہ پاکستان نے بھی فوج کی بڑی نفری اس صوبے میں تعینات کر رکھی ہے۔

بلوچستان میں گو کہ فوجی آپریشن ایک طویل عرصے سے جاری ہے، تاہم سابق پاکستانی آمر جنرل پرویز مشرف نے باغیوں کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا آغاز 2005 میں کیا تھا، جو اب تک جاری ہے۔

علیحدگی پسند بلوچ رہنما اور ایک برطانوی جامعہ کے پروفیسر مصفطیٰ بلوچ کے مطابق پاکستانی فورسز اس صوبے میں اپنے حقوق کی آواز اٹھانے والے ہر شخص کو اپنا نشانہ بنا رہی ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان کے وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ باغیوں کے ساتھ بات چیت ممکن ہے، تاہم ملکی دستور کو بالا رکھنا ہو گا۔

بگٹی نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں متعدد قوم پرست جماعتیں اور رہنما موجود ہیں اور عوام کے یہی نمائندے بلوچستان کے حقوق اور عوامی رائے کی ترجمانی کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ علیحدگی پسندی کی تحریک کے نام پر عام شہریوں کے قتل عام کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی اور ایسے عناصر سے پوری ریاستی قوت سے نمٹا جائے گا۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ کشمیر اور بلوچستان دو مختلف معاملات ہیں، کیوں کہ کشمیر میں عوامی رائے کو تسلیم نہیں کیا جا رہا، تاہم بلوچستان اسمبلی میں عوامی نمائندے موجود ہیں۔

پروفیسر مصفطیٰ بلوچ نے تاہم سرفراز بگٹی سے اختلاف کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان اسمبلی میں موجود افراد بلوچ عوام کی ترجمانی نہیں کرتے اور اس مسئلے کا حل براہ راست اس موضوع پر بلوچ عوامی کی رائے جاننے سے ہی ممکن ہے