1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’صرف پرویز مشرف پر ہی غداری کا مقدمہ چلایا جائے گا‘

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے میں دیگر تین شریک ملزمان کو شامل کرنے کے خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس نورالحق قریشی کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے تین شریک ملزمان سابق وزیر اعظم شوکت عزیز ،سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور سابق وزیر قانون زید حامد کی درخواستوں پر منگل کو فیصلہ سنایا۔

عدالت عالیہ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ان درخواستوں پر فیصلہ انیس اکتوبر کو محفوظ کیا تھا۔

منگل کو جاری کیے گئے حکم میں عدالت نے کہا ہے کہ تفتیشی ادارے خصوصی عدالت کی طرف سے ان تینوں افراد کے بارے میں دیے گئے ریمارکس سے متاثر ہوئے بغیر ان کے خلاف تحقیقات کریں۔

عدالت نےاپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران حکومت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اس مقدمے کی تفتیش میں کچھ کمی رہ گئی ہے، جس کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ آئین شکنی کا مقدمہ دوسرے مقدمات کی نسبت مختلف ہے اور اس مقدمے کا اندارج اور اس تفتیش کسی کی خواہش کے مطابق نہیں کی جا سکتی بلکہ اس پر قانون کے مطابق عمل کرنا پڑتا ہے۔

Pervez Musharraf 2013

مشرف پاکستان میں متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں

خصوصی عدالت نے نومبر دوہزار چودہ میں سابق فوجی صدر کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ملک میں تین نومبر کو ہنگامی حالت کے نفاذ پر اس وقت کے وزیراعظم، وزیر قانون اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو شریک جرم کرنے کا حکم دیا تھا ۔ اس کے بعد مذکورہ تینوں شریک ملزمان نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

خصوصی عدالت میں مقدمے کی پیروی کرنے والی استغاثہ کی ٹیم کے ایک رکن اکرام چوہدری نے کہا،’’ہم نے خصوصی عدالت میں یہی مؤقف اپنایا تھا کہ تین نومبر دوہزار سات کے غیر آئینی اقدامات کے جنرل مشرف تنہا ذمہ دار ہیں اور انہی کے خلاف کاروائی کی جائے۔ پھر جب عدالت نے حکم دیا کہ شریک ملزمان کو مقدمے میں شامل کیا جائے توحکومت اس کے لئے بھی تیار تھی اوراس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو کہا کہ وہ شریک ملزمان کے خلاف بھی کارروائی کے لیے تیار ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ خصوصی عدالت جوں ہی اس مقدمے کی دوبارہ سماعت شروع کرے گی تو استغاثہ کی ٹیم پوری مستعدی کے ساتھ اس کی پیروی کے لیے تیار ہے۔

تاہم جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم آنے کے بعد ان کے مؤکل کے خلاف خصوصی عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا ۔

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’عدالت کی طرف سے ملزمان سے تحقیقات کرنے کا کہا گیا ہے، تو اس کی روشنی میں جنرل مشرف کےخلاف بھی دوبارہ تحقیقات ہوں گی اور پھر چالان جمع کرایا جائے گا۔‘‘

آئینی ماہر جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم کے بعد اب وفاقی حکومت کوتنہا جنرل پرویز مشرف کے خلاف کاروائی کرنی پڑے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ایک اہم بات یہ ہے کہ خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب اب سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بن گئے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ وہ اب بھی خصوصی عدالت کی کارروائی جاری رکھیں گے یا الگ ہوجائیں گے اگر وہ اس مقدمے سے الگ ہوگئے تو پھر بنچ کی دوبارہ تشکیل میں وقت لگ سکتا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کسی نتیجے پر پہنچنے کے بارے میں وقت کا تعین کرنا مشکل ہے۔