’صرف مہاجرین کے بحران پر ہی توجہ مرکوز نہ کی جائے‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 30.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’صرف مہاجرین کے بحران پر ہی توجہ مرکوز نہ کی جائے‘

یورپی یونین کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ مہاجرین کا بحران پہلی ’عالمی انسان دوست سمٹ‘ پرحاوی نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ یوں دیگر کئی اہم مسائل سے توجہ ہٹ جائے گی۔

Griechenland Flüchtlinge in Idomeni

اس عالمی سمٹ کا مقصد انسانوں کو درپیش متعدد مسائل کا دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق جامع حل تلاش کرنا ہے۔

’ورلڈ ہیومنٹیرین سمٹ‘ (عالمی انسان دوست سمٹ) متوقع طور پر تیئس تا چوبیس مئی کو ترک شہر استنبول میں منعقد کی جائے گی، جس میں متعدد ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی اور سول سوسائٹی کے پانچ ہزار سفارتکار شریک ہوں گے۔

اس عالمی سمٹ کا مقصد مسائل کے حل کے لیے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ عالمی مندوبین کی کوشش ہو گی کہ وہ اس سمٹ میں ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی پر متفق ہو جائیں۔

یہ سمٹ ایک ایسے وقت پر منعقد کی جا رہی ہے جب یورپ کو مہاجرین کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے ایک نیا انسانی بحران بھی پیدا ہو چکا ہے۔

ترکی اور یورپی یونین کے مابین اس حوالے سے طے ہونے والے ایک متنازعہ معاہدے کی وجہ سے ان مہاجرین اور تارکین وطن کی یورپ آمد کے سلسلے کو تو روکنے میں مدد ملی ہے لیکن ساتھ ہی یونان میں جمع ہونے والے مہاجرین کے باعث وہاں یہ بحران انتہائی شدید ہو چکا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین یونان میں محصور ہو گئے ہیں جب کہ وہاں مہاجر کیمپوں کی صورت حال بھی انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے۔

اس صورتحال کے باوجود یورپی یونین کے اقوام متحدہ کے لیے سفیر Joao Vale de Almeida نے کہا ہے کہ اگر ’ورلڈ ہیومنٹیرین سمٹ‘ کے دوران مہاجرین کے بحران کا ایجنڈا حاوی ہو گیا تو دیگر اہم مسائل نظر انداز ہو جائیں گے۔

نیو یارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سمٹ بنیادی طور پر انسانی المیوں کے حل کے لیے ایکشن، امداد پہنچانے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے عالمی اتفاق رائے کے لیے منعقد کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ سمٹ صرف مہاجرین یا تارکین وطن کے بحران کے حل کی خاطر نہیں ہے۔‘‘

بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی کے سربراہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دیگر کئی اہم اور حل طلب مسائل کے بجائے یہ سمٹ صرف مہاجرین کے بحران پر فوکس کیے جانے کا اندیشہ موجود ہے۔ سابق برطانوی وزیر خارجہ ملی بینڈ نے کہا، ’’میرے خیال میں یہ انتہائی اہم ہے کہ اس سمٹ کو یورپ اور مشرق وسطیٰ کی سمٹ کے طور پر نہ دیکھا جائے۔‘‘

ڈیوڈ ملی بینڈ کے بقول اگر عالمی انسان دوست سمٹ میں صرف یورپ اور مشرق وسطیٰ پر ہی دھیان مرکوز رکھا گیا تو افریقہ، جنوب ایشیائی اور مشرق بعید کے بہت سے ایسے ممالک سے توجہ ہٹ جائے گی، جہاں مہاجرت کا بحران انتہائی توجہ طلب ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے گزشتہ برس دسمبر کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں زبردستی بے گھر کر دیے جانے والے افراد کی تعداد ساٹھ ملین تک پہنچ چکی ہے۔

اس کے علاوہ شامی خانہ جنگی، افغانستان کا بحران اور ڈیموکریٹک ری پبلک کانگو، صومالیہ، عراق، جنوبی سوڈان اور دیگر متعدد ممالک میں سکیورٹی کی ابتر ہوتی ہوئی صورت حال نے بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

’ورلڈ ہیومنٹیرین سمٹ‘ (عالمی انسان دوست سمٹ) میں عالمی مندوبین اس بارے میں بھی غور کریں گے کہ ان بحرانوں کے لیے ملنے والے فنڈز کو زیادہ مناسب طریقے سے کیسے خرچ کیا جا سکتا ہے۔ Vale de Almeida کے بقول، ’’اس امداد کو بہتر انداز میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

دوسری عالمی جنگ کے بعد انسانی المیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ستّر برس بعد پہلی مرتبہ ’ورلڈ ہیومنٹیرین سمٹ‘ کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ایک عالمی حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات