1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

صرف منفی پہلو دکھانے کے الزام کا دفاع

شرمین عبید چنائے نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کی صرف اچھائیاں بیان کر کے اسے بہتر ملک نہیں بنا سکتے، ہمیں ان مسائل پر بات کرنا ہو گی جن کا پاکستانی معاشرے کو سامنا ہے اور حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کو بہت سےمسائل کا سامنا ہے۔

بین الاقوامی نیوز چینل سی این این کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے شرمین نے کہا ، ’’ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلام میں غیرت کے نام پر قتل کرنے کی کوئی جگہ نہیں ہے، پاکستان کے وزیراعظم کی جانب سے ایسا بیان بہت معنی رکھتا ہے۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ملک میں یہ فرسودہ روایت ختم ہو جائے گی لیکن یہ بیان یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ ملک کی قیادت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔‘‘

اس آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی نامور فلم ساز کے ناقدین ان پر ’پاکستان کا بدنما چہرہ‘ دکھانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ تاہم شرمین کہتی ہیں کہ ’’ ہمیں پاکستان میں قائم اسٹیٹس کو کو یا حسب سابق حالت‘‘ کے بارے میں ضمیر کو جھنجھوڑنا ہوگا۔

شرمین عبید کی حالیہ ڈاکومینٹری فلم ’ آ گرل ان دی ریورِ، معاف کرنے کی قیمت‘ پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کر دینے کی فرسودا رسم کے بارے میں ہے۔ یہ ڈاکومینٹری اس برس کے آسکر ایوارڈ کی کم دورانیہ کی بہترین ڈاکومینٹری کے زمرے میں نامزد کی گئی ہے۔ اس فلم کے بارے میں شرمین کہتی ہیں، ’’اس فلم کا سب سے پر امید پہلو یہ ہے کہ اس نے قومی سطح پر غیرت کے نام پر قتل جیسے موضوع پر بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ پاکستان کو ایسی بحث کی شدید ضرورت ہے۔‘‘

شرمین عبید چنائے کی یہ فلم صبا نامی ایک لڑکی کی ہے جس کے والد اور چچا نے اسے پسند کی شادی کرنے کے باعث اسے گولی مار کرایک بوری میں ڈال کر دریا میں پھینک دیا تھا۔ تاہم اس لڑکی کی موجزانہ طور پر جان بچ گئی۔ شرمین عبید نے اس بارے میں خبر اخبار میں پڑھی اور اس کے بعد اسی موضوع پر فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس بارے میں شرمین کہتی ہیں،’’اس لڑکی کا باپ آج اس لیے جیل سے باہر ہے کیونکہ اس حوالے سے پاکستان میں سخت قوانین موجود نہیں ہیں۔‘‘ صبا کے والد اور چچا کو خاندان کے دباؤ کے باعث صبا نے معاف کر دیا تھا۔ انہوں نے صبا کو نقصان نہ پہنچانے کی گارنٹی دی ہے لیکن بہت سے ایسے کیسز میں جیل سے چھوٹ جانے والے افراد بدلہ ضرور لیتے ہیں۔ آج صبا اپنے ایک بیٹے کے ساتھ اپنی سسرال میں رہ رہی ہے، وہ چاہتی ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی ایسی تربیت کرے کہ وہ خواتین کی عزت کرنا سیکھے اور انہیں اُن کا جائز مقام دے۔

شرمین کہتی ہیں، ’’ اگر پاکستان کے وزیر اعظم نے غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے قانون تبدیل کر دیا تو میں خود ان کے دفتر جا کر ان کا شکریہ ادا کروں گی۔‘‘

DW.COM