1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

صرف شامی باشندے ہی پناہ کے حقدار کیوں ہیں؟

ہزاروں تارکین وطن روزانہ ترکی سے یونان پہنچ رہے ہیں لیکن یونان سے جرمنی اور مغربی یورپ پہنچنے کے راستے بند ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستانی تارکین وطن کے بعد اب افغان باشندوں کے لیے بھی سرحدیں بند ہو چکی ہیں۔

چوبیس سالہ جمشید بھی ایک ایسا ہی افغان تارک وطن ہے جو لاکھوں روپے خرچ کر کے یونان تک تو پہنچ گیا، لیکن اب وہ اپنی منزل جرمنی کی جانب سفر جاری نہیں رکھ سکتا کیوں کہ مقدونیہ نے یونان سے متصل اپنی سرحد افغان پناہ گزینوں کے لیے بھی بند کر دی ہے۔

ہمیں وطن واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

لاکھوں مہاجرین یورپ بھیج دیں گے، ایردوآن کی دھمکی

جمشید کابل کا رہنے والا ہے اور وہاں وہ امریکی فوج کے لیے بطور مترجم کام کرتا تھا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ ایک گفتگو میں جمشید کا کہنا تھا، ’’جب ہم مقدونیہ کی سرحد پر پہنچے تو ہمیں بتایا گیا کہ افغان شہری سرحد پار نہیں کر سکتے، صرف شامی مہاجرین کو آگے جانے کی اجازت ہے۔ یہ تو سراسر زیادتی ہے۔‘‘

تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق بلقان کی ریاستوں نے بھی اپنے اپنے علاقے سے گزر کر مغربی یورپ کی جانب سفر کرنے والے تارکین وطن کی یومیہ حد مقرر کر دی ہے۔ مقدونیہ، سربیا، کروشیا اور سلووینیہ نے مشترکہ فیصلہ کیا ہے کہ روزانہ صرف 580 تارکین وطن کو ان ممالک میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر کے مطابق جنوری سے لے کر فروری کے وسط تک یونان میں ایک لاکھ سے زائد تارکین وطن پہنچے۔ ان میں سے 44 فیصد کا تعلق شام، 29 فیصد کا افغانستان جب کہ تین فیصد کا تعلق پاکستان سے ہے۔

Griechenland Flüchtlinge auf dem Weg nach Piraeus

یونان میں پھنسے ہزاروں تارکین وطن کو مغربی یورپ کی جانب سفر جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے

شامی تارکین وطن کو سفر جاری رکھنے کی اجازت دینے اور افغان باشندوں پر پابندی لگائے جانے کے حوالے سے جمشید کا کہنا تھا، ’’شام میں پانچ سال سے خانہ جنگی جاری ہے جب کہ افغانستان میں پچھلے تیس برس سے جنگ ہو رہی ہے۔ دولت اسلامیہ (داعش) شام میں ہے تو افغانستان میں بھی شدت پسند گروہ سرگرم ہیں۔ شام اور افغانستان کی صورت حال میں فرق کیا ہے؟‘‘

مقدونیہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ افغان تارکین وطن پر پابندی دیگر ممالک کی جانب سے افغان تارکین وطن کو واپس بھیجنے کے بعد لگائی گئی ہے۔ ان تارکین وطن نے خود کو افغان شہری ظاہر کیا تھا لیکن ان کا تعلق پاکستان اور ایران سے تھا۔

بائیس سالہ محمد کا تعلق بھی افغانستان سے ہے اور وہ اپنے ملک میں انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ محمد کا کہنا ہے کہ مقدونیہ کی پولیس افغان شہریوں سے امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ محمد کے مطابق، ’’انہوں نے ہم سے پوچھا کہ ہمارا تعلق کس ملک سے ہے، ہم نے بتایا کہ افغانستان سے، تو انہوں نے بغیر کاغذات دیکھے ہمیں یہ کہہ دیا کہ واپس چلے جاؤ۔‘‘

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بلقان کی ریاستوں کی جانب سے سرحدوں کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بان کی مون کا کہنا تھا کہ سرحدی پابندیاں مہاجرین سے متعلق بین الاقوامی کنونشن سے متصادم ہیں۔

یورپی یونین نے بھی موجودہ صورت حال کے پیش نظر خبردار کیا ہے کہ بلقان کی ریاستوں کی جانب سے تارکین وطن کی یومیہ حد مقرر کیے جانے کے بعد اگر ترکی کے ساتھ مذاکرات بھی ناکام ہو گئے تو پناہ گزینوں کا بحران ’تباہ کن‘ صورت اختیار کر لے گا۔

DW.COM