1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’صرف جائزہ نہ لیں بلکہ حتمی فیصلہ سنائیں، ايردوآن

یورپی یونین کی جانب سے ترک حکومت پر کی جانے والی شدید تنقید کے ردِ عمل میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے بلاک کی رکنیت کے حوالے سے فریقین کے مابين جاری مذاکرات روکنے کے لیے چیلنج کر دیا ہے۔

ترک صدر ایردوآن نے کہا ہے کہ یورپی یونین کبھی ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کے خاتمے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس اقدام سے مہاجرین کے مسئلے پر کیا گیا ترک یورپی یونین معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

ترک صدر کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آج ہی یورپی یونین کی جانب سے ترکی کی بلاک میں رکنیت کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ یورپی یونین کی رپورٹ میں ترک حکومت کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر قدغن لگانے اور کرد نواز قانون سازوں کے ایک گروپ کی گرفتاریوں پر شدید تنقید کی گئی ہے۔

 ترک صدر طیب ایردوآن نے اپنے بیان میں کہا،’’ وہ بڑی ڈھٹائی سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ترکی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے از سرِ نو سوچنا چاہیے۔ میں کہتا ہوں کہ صرف جائزہ نہ لیں بلکہ حتمی فیصلہ سنائیں۔‘‘

خیال رہے کہ رواں برس مارچ میں ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے معاہدے کے مطابق ترک حکومت نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو یونان پہنچنے سے روکنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

Flüchtlinge Türkei Izmir (picture-alliance/dpa/C.Oksuz)

رواں برس مارچ میں ترک حکومت نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو یونان پہنچنے سے روکنے پر رضامندی ظاہر کی تھی

تارکین وطن کو غیر قانونی اور خطرناک سفر سے روکنے یا واپس ترکی بھیج دینے کے عوض یونین نے ترکی میں مقیم شامی مہاجرین کی آباد کاری میں مدد کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے، ترکی شہریوں کو یورپ کے شینگن زون میں ویزہ فری سفر کی اجازت دینے اور یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کے حوالے سے مذاکرات کی رفتار تیز کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

 تاہم ترک شہریوں کو شینگن زون  میں ویزہ فری داخلے کی اجازت دینے کے معاملے پر دونوں فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک کی سی صورتِ حال ہے۔

برسلز کا مطالبہ ہے کہ پہلے ترک حکومت اپنے انسداد دہشت گردی کے قوانین کو تبدیل کرے۔ اس سے قبل یورپی رہنماؤں نے ترکی میں اہم کرد حامی اپوزیشن جماعت کے رہنماؤں کی نظربندی پر بھی ترک حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

DW.COM