1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

صرف تین ارب یورو؟ ترکی نے یورپی یونین کی امداد مسترد کر دی

ترک وزیر خارجہ نے مہاجرین کے بحران کے حوالے سے یورپی یونین کی جانب سے مالی معاونت کی پیش کش پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ یورپی یونین نے گزشتہ روز تین ارب یورو کی امداد کا اعلان کیا تھا۔

ترکی کے دارالحکومت، انقرہ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ فریدون سینرلی اولو کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز برسلز میں طے پانے والا لائحہ عمل حتمی نہیں بلکہ صرف ابتدائی مسودہ ہے۔ سینرلی اولو نے کہا، ’’یہ مالیاتی پیکیج یورپی یونین کی جانب سے تجویز کیا گیا ہے اور ہم نے انہیں بتا دیا ہے کہ یہ ناقابل قبول ہے۔‘‘

یورپی یونین اور ترکی کے درمیان گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات کو بڑی تعداد میں یورپ کی طرف رخ کرنے والے مہاجرین کو روکنے کے سلسلے میں ایک ’لائحہ عمل‘ کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

ترک وزیر خارجہ کی شکایت تھی کہ یورپی یونین کی کوشش تھی کہ یہ رقم ترکی کے لیے پہلے سے مختص فنڈ سے ہی دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حتمی پیش کش میں میں طے پانے والی رقم کو ’’ابتدائی منصوبے میں تجویز کی گئی معمولی اور بے معنی رقم‘‘ سے کہیں زیادہ کرنا ہو گا۔ تاہم انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ انقرہ حکومت کو اس ضمن میں مجموعی طور پر کتنی رقم درکار ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے کی گئی اپنی ایک گفتگو میں ان کا مزید کہنا تھا، ’’اگر یورپی یونین ابتدائی مرحلے میں تین ارب یورو فراہم کرے تو یہ بامعنی بات ہے۔ ہم مہاجرین پر آٹھ ارب ڈالر خرچ کر چکے ہیں جب کہ ہماری مجموعی قومی پیداوار صرف 800 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ اس کے مقابلے میں یورپی یونین کی مجموعی اقتصادی پیداوار 180 کھرب ڈالر ہے۔‘‘

یورپی یونین کی جانب سے تجویز کردہ مالیاتی پیش کش کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’180 کھرب ڈالر مجموعی اقتصادی پیداوار ہونے کے باوجود اس مسئلے سے نمٹنے کے مجموعی طور پر تین ارب ڈالر کی آفر مضحکہ خیز ہے۔ لیکن کم از کم یہ 50 کروڑ ڈالر سے تو بہتر ہے جو اب تک یورپی یونین نے مہاجرین کے سلسلے میں اب تک مہیا کیے۔‘‘

یہ امر اہم ہے کہ یورپ میں داخل ہونے والے زیادہ تر پناہ گزین ترکی کا ہی راستہ استعمال کرتے ہیں۔ یورپ میں اب تک چھ لاکھ مہاجرین آ چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ترکی سے خطرناک سمندری راستہ اختیار کرتے ہوئے یونانی جزیروں پر پہنچے، تاہم کچھ پناہ گزین زمینی راستے سے بھی یورپ میں داخل ہوئے۔

Türkei Polizisten und Flüchtlinge Zusammenstößen

یورپ میں داخل ہونے والے زیادہ تر پناہ گزین ترکی کا ہی راستہ استعمال کرتے ہیں

سینرلی اولو کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپی یونین کا اعلیٰ سطحی وفد مہاجرین کے بحران کے حوالے سے ترکی کے ساتھ ڈیل کرنے کے لیے رواں ہفتے ترکی کا دورہ کر چکا ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل بھی اسی سلسلے میں اتوار کو ترک رہنماؤں سے گفتگو کرنے کے لیے استنبول کا دورہ کر رہی ہیں۔

تاہم سینرلی اولو یورپی رہنماؤں کی اس اچانک سفارتی آمد و رفت سے کچھ زیادہ متاثر نہیں لگتے۔ انہوں نے یورپی رہنماؤں کے ترکی کے موجودہ دوروں کے حوالے سے کہا، ’’لگتا ہے یورپی یونین کو دوبارہ ترکی کی یاد آ گئی ہے۔ ترکی ایسا ملک نہیں ہے، جسے صرف بحران کے وقت ہی یاد کیا جائے اور نہ ہی یہ ایسا ملک ہے جس کے ساتھ صرف حکمت عملی کے سلسلے میں تعاون مانگا جائے۔‘‘

DW.COM