1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صرف امریکہ پر انحصار کرنا صحیح نہیں: اوباما

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 64 واں اجلاس جاری ہے۔ اس اجلاس میں دنیا کے ایک سو بیس ممالک کے سربراہان حصّہ لے رہے ہیں۔سیکرٹری جنرل بان کی مون نےمشرق وسطیٰ میں خون خرابہ بند ہونے اور افغان جنگ کے خاتمے پر زور دیا۔

default

امریکی صدر باراک اوباما نے نیویارک میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنی پہلی تقریر میں بتایا کہ عالمی مسائل کے حل کے لئے صرف امریکہ پر انحصار کرنے کے طریقے میں اب تبدیلی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب نیویارک میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اور لیبیا کے رہنما معمر قذافی کی موجودگی میڈیا کے لئے دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اپنے افتتاحی کلمات میں مشرق وسطیٰ میں خون خرابہ بند ہونے اور افغان جنگ کے خاتمے پر زور دیا۔ بان کی مون نے عالمی رہنماوٴں سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں اپنی کوششیں تیز کریں۔

نیویارک میں قائم اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز کے باہر اس وقت زبردست چہل پہل ہے اور صحافیوں کے گروپ تمام بڑے سیاسی رہنماوٴں کی ایک ایک ساوٴنڈ بائٹ حاصل کرنے کے لئے مقابلہ بازی کی دوڑ میں ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس سالانہ اجلاس میں امریکی صدر باراک نے اوباما جو تقریر کی اُس کے کچھ حصّے وائٹ ہاوٴس نے پہلے ہی جاری کردئے تھے۔

اوباما نے اپنے خطاب میں عالمی رہنماوٴں سے یہ کہا کہ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ جب تمام ملکوں کوعالمی مسائل کے حل کے لئے اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھالنی اور نبھانی چاہییں۔ ’’دنیا کے تمام مسائل کے حل کے لئے صرف امریکہ پر ہی انحصار کرنے کا طریقہ اب تبدیل ہونا چاہیے۔‘‘

اوباما کی تقریر کے فوراً بعد ہی لیبیا کے رہنما کرنل قذافی نے جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ معمر قذافی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افریقی یونین کے لئے مستقل رکنیت کا مطالبہ کیا۔ لیبیا کے رہنما نے کہا کہ اقوام متحدہ برابری کے اصول پر کام نہیں کر رہی ہے۔ قذافی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے قیام سے اب تک درجنوں جنگیں لڑی جاچکی ہیں اور یہ عالمی ادارہ انہیں روکنے میں ناکام رہا۔

کرنل معمر قذافی نے جنرل اسمبلی میں اپنی سیٹ پر اپنے قلم سے عربی اور انگریزی زبان میں یہ الفاظ لکھے تھے: ’’وی آر ہیر‘‘ یعنی ’ہم یہاں آگئے ہیں‘۔ جنرل اسمبلی میں معمر قذافی کا یہ پہلا خطاب تھا۔

معمر قذافی کے علاوہ ایک اور عالمی رہنما ایسے ہیں جو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد۔ جنرل اسمبلی میں محمود احمدی نژاد کی تقریریں اکثر متنازعہ بن جاتی ہیں۔ اس بار بھی صورتحال مختلف رہنے کی توقع نہیں ہے۔

ابھی حال ہی میں یوم قدس کے موقع پر احمدی نژاد نے تہران میں ایک اسرائیل مخالف ریلی میں نازی دور میں یہودیوں کے قتل عام ’ہولوکاسٹ‘ کی نفی کرتے ہوئے اسرائیل اور یورپی رہنماوٴں پر زبردست تنقید کی تھی۔ جرمنی نے اسی وجہ سے یہ کہہ دیا ہےکہ اگر ایرانی صدر احمدی نژاد پھر سے ’ہولوکاسٹ‘ کی نفی کرتے ہوئے یہودی مخالف تقریر کرتے ہیں تو وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے واک آوٴٹ کرے گا۔ جرمنی نے دیگر یورپی ملکوں کے رہنماوٴں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں جرمنی کا ساتھ دیں۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: عدنان اسحاق