صرف اتفاق رائے سے طلاق: جج کی ضرورت نہیں، نیا قانون زیر غور | معاشرہ | DW | 17.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

صرف اتفاق رائے سے طلاق: جج کی ضرورت نہیں، نیا قانون زیر غور

فرانس میں حکومت ایک ایسا نیا قانون متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت آپس میں شادی شدہ شہری محض باہمی اتفاق رائے سے ہی ایک دوسرے کو طلاق دے سکیں گے اور قانونی علیحدگی کے لیے کسی جج کی ضرورت نہیں ہو گی۔

فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے منگل 17 مئی کو موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق اس اقدام کا مقصد شادی شدہ افراد کے مابین قانونی علیحدگی کے عمل کو آسان اور تیز رفتار بنانا ہے۔

اس بارے میں قومی اسمبلی کہلانے والے فرانسیسی ایوان زیریں میں ایک ایسے جامع مسودہ قانون پر بحث آج منگل کے روز شروع ہو گئی، جس کے ذریعے حکومت ملکی نظام عدل کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتی ہے۔

اس مسودہ قانون پر فرانس میں خاندانوں کے سماجی مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیموں کی طرف سے کافی زیادہ خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے طلاق کے خواہش مند کسی بھی شادی شدہ جوڑے کے بچوں کے بہترین مفادات کا مناسب خیال رکھا جانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

فرانسیسی وزیر انصاف ژاں ژاک اُروَوآس کا کہنا ہے کہ بغیر کسی جج یا عدالتی کارروائی کے طلاق دینے کے عمل پر محض قریب 50 یورو تک لاگت آیا کرے گی اور طلاق کے خواہش مند کسی بھی جوڑے کو کسی اوتھ کمشنر کے پاس جانا پڑے گا، جس کے لیے برائے نام لیکن کسی وکیل کی موجودگی بھی ضروری ہوا کرے گی۔

لیکن اسی مجوزہ قانون کے تحت کسی بھی شادی شدہ جوڑے کی طلاق کے معاملے کی کسی جج کی طرف سے باقاعدہ سماعت اس وقت لازمی ہو جائے گی، جب کوئی بچہ یہ درخواست دے دے گا کہ اس کے والدین کے مابین طلاق کی کارروائی کی کسی مجسٹریٹ کو باقاعدہ سماعت کرنی چاہیے۔

اس بارے میں فرانسیسی وزیر انصاف نے ریڈیو ’فرانس انٹر‘ کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سول عدالتوں کے جج ان مقدمات پر زیادہ توجہ دیں، جن میں کسی بھی دو افراد کے مابین طلاق کا معاملہ باقاعدہ تنازعہ بن چکا ہوتا ہے۔ ’’اس لیے جو جوڑے باہمی اتفاق رائے سے آپس میں طلاق کا فیصلہ کر لیں، ان کے لیے یہ عمل آسان بنایا جانا چاہیے۔‘‘

وزیر انصاف Jean-Jacques Urvoas کے مطابق اس سماجی رجحان کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے کہ یورپی یونین کے رکن اس ملک میں ہر سال قریب 66 ہزار جوڑوں کے مابین باہمی اتفاق رائے اور صلح صفائی سے قانوناﹰ طلاق ہو جاتی ہے، اور یہ تعداد مثال کے طور پر سن 2015ء میں فرانس میں قانونی طلاق کے کل واقعات کا 54 فیصد بنتی تھی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس نئی قانونی تجویز پر فرانسیسی محتسب اعلیٰ ژاک تُوباں نے گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمانی ایوان زیریں کے ارکان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خاص طور پر اس امر کو یقینی بنائیں کہ اس ممکنہ قانون سازی کے ذریعے بچوں کے بنیادی حقوق کمزور نہ پڑ جائیں۔

محتسب اعلیٰ نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ کسی جج کے بغیر اور صرف باہمی رضامندی سے قانونی طلاق کی سہولت محض ایسے جوڑوں کو دی جائے جن کی آپس میں شادی کے نتیجے میں یا تو کوئی اولاد نہ ہو یا پھر جن کے بچے بالغ ہو چکے ہوں۔