1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

صدمہ زدہ مہاجرین کے لیے ابتدائی نفسیاتی طبی امداد کی ضرورت

شورش زدہ ملکوں سے یورپ آنے والے تارکین وطن عموماﹰ جنسی تشدد، جنگ، جسمانی تشدد جيسے متعدد ذہنی صدمات کا شکار ہوتے ہیں۔ ماہرین ایسے مریضوں کے علاج کے لیے نفسیاتی علاج کے نئے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔

چوالیس سالہ شامی باشندہ لندن میں ماہرین نفسیات کو ماضی میں خود پر ہونے والے تشدد کی تفصیلات بتا رہا تھا تو اس کی آنکھوں میں خوف تھا اور ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ اس کی بیوی کے مطابق وہ آدھی رات کو چیختا ہوا بیدار ہو جاتا ہے۔

ایک مستند سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق شام، افغانستان اور دیگر خانہ جنگی اور شورش کے شکار ممالک سے آنے والے مہاجرین کی ايک بڑی تعداد شدید نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ان بیماریوں میں پس از صدمہ ذہنی و جذباتی دباؤ یا ’پی ایس ٹی ڈی‘ جیسی بیماریاں بھی شامل ہیں۔

پی ایس ٹی ڈی کے شکار افراد ماضی کی بھیانک یادوں کے باعث مسلسل گھبراہٹ اور کم خوابی میں مبتلا رہتے ہیں۔ جذباتی اور نفسیاتی عدم استحکام ان تارکین وطن کے لیے نئے ماحول اور نئی جگہ میں زندگی دوبارہ شروع کرنے میں مشکلات پیدا کر دیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کار حادثوں اور جنگ سے لوٹنے والے فوجیوں کے نفسیاتی علاج کے لیے استعمال کیا جانے والا مروجہ طریقہ علاج ایک سے زائد صدموں کے شکار ان تارکین وطن کے علاج کے لیے کافی نہیں ہے۔ اسی لیے یورپی ماہرین نفسیات نئے طریقہ کار کی کھوج میں مصروف ہیں۔

نفسیاتی علاج کے لیے کچھ ماہرین رضاکارانہ طور پر ایسی جگہوں پر کام کر رہے ہیں جہاں مہاجرین زیادہ تعداد میں آتے ہیں۔ اوریلیا باربیری بھی ایک ایسی ہی رضاکار ہیں جو ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے ساتھ وابستہ ہیں۔ باربیری اطالوی جزیرے سیسلی میں آنے والے تارکین وطن کو ’ابتدائی نفسیاتی طبی امداد‘ فراہم کرتی ہیں۔ باربیری کہتی ہیں کہ سیسلی میں زیادہ تر تارکین وطن لیبیا سے آتے ہیں اور ان میں سے اکثر مہاجرین قید اور تشدد کے باعث شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔

ماضی کی اذیت ناک یادیں

جرمنی کے شہر ڈریسڈن میں ڈاکٹروں نے تیئس پناہ گزینوں کا نفسیاتی جائزہ لیا۔ ان میں سے تقریباً نصف تارکین وطن پی ایس ٹی ڈی کا شکار تھے۔ اسی طرح اطالوی جزیرے سیسلی میں جن تارکین وطن کا نفسیاتی جائزہ لیا گیا ان میں سے بھی چالیس فیصد سے زائد اسی کيفيت میں مبتلا تھے۔ باربیری کہتی ہیں، ’’انہیں اذیت ناک ماضی کی یاد آتی ہے اور انہیں لگتا ہے کہ وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں۔‘‘

ابتدائی نفسیاتی طبی امداد کے مراکز میں کوشش کی جاتی ہے کہ ایسے تارکین وطن سے گفتگو کی جائے اور ان کی بات سنی جائے تاکہ انہیں احساس ہو سکے کہ اب وہ ایک محفوظ جگہ پر ہیں۔ لیکن انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک برطانوی ادارے کے مطابق کچھ مہاجرین میں لوگوں پر اعتبار کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے جس کے باعث انہیں علاج مہیا کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔

متبادل علاج کے طریقہ کار

مہاجرین کا مسئلہ نیا نہیں ہے اور ایک سے زائد صدموں کے شکار مریض بھی پہلی بار دیکھنے میں نہیں آ رہے۔ لیکن ماہرین نفسیات نے صرف ایک دہائی قبل ہی اس قسم کی بیماریوں پر زیادہ توجہ دینا شروع کی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ امداد کرنے والے بین الاقوامی اداروں نے پچھلے دس برسوں کے دوران ہی روٹی، کپڑا اور مکان کے علاوہ نفسیاتی علاج معالجے کو بھی بینادی انسانی ضرورت میں شمار کرنا شروع کیا ہے۔

جرمن محققین نے دس برس قبل ہی نیریٹیو ایکسپوژر تھراپی یا ’این ای ٹی‘ نامی طریقہ علاج وضع کیا ہے۔ اس طریقے میں پی ایس ڈی ٹی کے شکار مریضوں سے مختلف وقفوں سے ان پر ہونے والے مظالم کو مفصل طور پر پوچھا جاتا ہے۔ یہ طریقہ علاج اب تک بہت کامیاب رہا ہے۔

اس کے برعکس جنوبی لندن میں مہاجرین کی نفسیاتی مدد کے لیے قائم ایک ادارہ مختلف طریقے سے نفسیاتی علاج کرتا ہے۔ یہاں کے ماہرین نفسیات پہلے سے آئے ہوئے تارکین وطن کے تجربات کو نئے تارکین وطن کی مدد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين UNHCR کے مطابق اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں تارکین وطن موجود ہیں۔ ان پناہ گزینوں کی بہت بڑی تعداد ممکنہ طور پر نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو سکتی ہے۔ وقت کی ضرورت یہ ہے کہ روٹی، کپڑے اور مکان کے علاوہ نفسیاتی علاج کو بھی بنیادی ضرورت سمجھ کر ہر تارک وطن کو علاج مہیا کیا جائے۔ بصورت دیگر نفسیاتی دباؤ کے شکار ان مہاجرین کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔