1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’’صدمہ تو رہے گا البتہ غصّہ میں کمی آسکتی ہے‘‘

ممبئی حملوں کےبعد پیدا شدہ پاک۔بھارت کشیدگی کم کرنے کے لئے حال ہی میں پاکستان سے ایک امن وفد بھارت کے دورے پر گیا لیکن باوجود اس کےدونوں ممالک کے سیاست دان ابھی پوری طرح سے تناوٴ پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

default

پاکستان اور بھارت کے درمیان واہگہ سرحد پر بھارتی اور پاکستانی سیکیورٹی اہلکار

بھارت کا دورہ کرنے والے امن وفد میں ساوٴتھ ایشیاء فری میڈیا ایسوسیشن، SAFMA کے سیکرٹری جنرل امتیاز عالم بھی شریک تھے۔ وطن واپسی پر امتیاز عالم نے بھی اعتراف کیا کہ ممبئی حملوں کی وجہ سے بھارت میں بہت ناراضگی اور غصّہ ہے اور ساتھ ہی ممبئی ڈوسئیر کی تحقیقات کے حوالے سے پاکستان کی رپورٹ کا انتظار بھی۔’’وہ انتظار میں ہیں کہ پاکستان کی حکومت ممبئی ڈوسئیر کی صحیح تحقیقات کرے، حقائق کو چھپانے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر ایسا ہوگا تو اُن کے غصّے میں کمی آئے گی۔ ممبئی حملوں کا صدمہ تو ہے البتہ غصّے میں کمی آسکتی ہے۔‘‘

Indiens Aussenminister Pranab Mukherjee auf einer Pressekonferenz in Singapur

بھارت یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی پاکستانی سرزمین پر کی گئی تھی

پروفیسر اے ایس نیئر بھی امن وفد میں شریک تھے۔ ممبئی حملوں کے بعد بھارت میں پائے جانے والے عام تاثر کو پروفیسر نائیر نے کچھ یوں بیان کیا۔

’’موڈ یہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کوئی حل نہیں ہے لیکن سب کو شکایت تھی کہ پاکستان اپنے فرائض صحیح طرح سے سرانجام نہیں دے رہا ہے، اور وہ کام نہیں کررہا ہے جو اسے کرنا چاہیے۔‘‘

اُدھر بھارتی دارلحکومت نئی دہلی میں منگل کو دو روزہ ایشیائی سیکیورٹی کانفرنس کا آغاز ہوا، جس میں خطّے میں سلامتی کے مختلف پہلووٴں پر غور و خوض کیا جارہا ہے۔ اس کانفرنس میں دُنیا کے مختلف ملکوں سے آئے ساٹھ سے زائد ماہرین شریک ہیں۔ مزکورہ کانفرنس کے پہلے روز ممبئی حملوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بھارت۔پاک کشیدگی کا موضوع چھایا رہا۔ کانفرنس میں شریک ماہرین کے مابین ممبئی حملوں کے بعد بھارت کے رویے پر اختلافات کھل کر سامنے آئیں۔ کانفرنس میں شریک دفاعی امور کے ماہر پرشانت ڈکشت نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بھارت کے موٴقف کو درست قرار دیا۔

گُزشتہ برس چھبیس نومبرکو بھارتی شہر ممبئی کے دو فائیوسٹار ہوٹلوں اور ایک یہودی مرکز پر شدت پسندوں کے حملوں کے بعد بھارت اور پاکستان کے تعلقات کافی کشیدہ ہوگئے، اور اب ان حملوں کی تحقیقات کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

Terror Serie in Bombay Geiseln aus Trident Hotel befreit

ان حملوں میں غیر ملکیوں کو خصوصا نشانہ بنایا گیا تھا

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیر کو شہر ملتان کی بہاوٴ الدین ذکریہ یونیورسٹی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی بھرپورکوشش کی لیکن وہ اپنے ان عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ قریشی نے کہا کہ اس صورتحال کا مقابلہ کرنا پاکستان کے لئے ہرگز آسان نہیں تھا لیکن اپنے ہمسایہ ملکوں کے تئیں پاکستان کی دوستانہ خارجہ پالیسی کے ذریعے تناوٴ میں کمی لانے کی مخلص کوششیں کی گئیں۔ پاکستان نے ممبئی حملوں کی تحقیقات میں بھارت کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور بین الاقوامی برادری، بالخصوص امریکہ اور برطانیہ، نے روایتی حریفوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کیں۔ ایسی کوششوں کے باوجود دونوں ملکوں کے سیاسی رہنماوٴں کے مابین الفاظ کی جنگ جاری ہے۔

پاکستان کی طرف سے ممبئی حملوں کی تحقیقات میں تعاون کی یقین دہاینوں کے بعد بھارت نے بالآخر ممبئی ڈوسئیر پاکستان کے حوالے کردیا تھا۔ پاکستان نے ڈوسئیر پر ابتدائی تحقیقات مکمل کی اور یہ دعویٰ کیا کہ ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان میں نہیں ہوئی تھی۔

ممبئی حملوں کے فوراً بعد بھارت نے یہ الزام عائد کیا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی۔ پاکستان نے جواب میں کہا کہ ثبوتوں کی غیر موجودگی میں بھارت کو الزامات عائد نہیں کرنے چاہییں۔

دونوں ملکوں کے درمیان سن دو ہزار چار سےجامع امن مذاکراتی عمل جاری تھا،جس کے نتیجے میں باہمی تعلقات خوشگوار ہونا شروع ہوگئے تھے لیکن ممبئی حملوں نے پل بھر میں سب کچھ بدل کے رکھ دیا۔ بھارتی ٹیم کا دورہء پاکستان منسوخ ہوا اور بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کی جانب اپنا طرز عمل سخت کرلیا۔

Bildgalerie Jahresrückblick 2008 November Indien

ممبئی حملوں کے دوران تاج ہوٹل کے باہر سیکیورٹی اہلکار آپریشن کے دوران

بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے منگل کو ایک مرتبہ پھر اپنے اس بیان کو دہرایا کہ بھارت کو ابھی تک پاکستان کی طرف سے سرکاری طور پر ممبئی ڈوسئیر پر کوئی رپورٹ نہیں ملی ہے۔ ’’حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کو ڈوسئیر دیا، پاکستان نے اس پر تحقیق مکمل کرنے کی بات کی لیکن ابھی تک ہمیں اس کے نتائج اور پیش رفت کے تعلق سے سرکاری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔‘‘

بھارتی وزیر داخلہ پی چدم برم نے نئی دہلی میں ابھی حال ہی میں اسی طرح کا بیان دیا تھا لیکن قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن نے بھارتی نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام ’ڈیویلز ایڈوکیٹ‘ میں کہا کہ پاکستان نے ممبئی ڈوسئیر سے متعلق ایک دو نکات کے سلسلے میں وضاحت طلب کی تھی جو اُسے فراہم کی گئی۔ اس طرح بھارتی وزراء اور قومی سلامتی کے مشیر کے درمیان ممبئی ڈوسئیر پر تضاد کھل کر سامنے آیا۔

ممبئی کے دہشت گردانہ حملوں میں 170 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور اسرائیل کے بعض شہری بھی شامل تھے۔