1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صدر پرویز مشرف کا مواخذہ ہو گا۔

پاکستان میں صدر پرویز مشرف کے مواخذے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اِس بات کا اعلان پاکستان پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری اور حکمران اتحاد کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ نون کے نواز شریف نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

default

آصف علی زرداری نے حکمران اتحاد کے مشترکہ اعلامیے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صدر ملک کو توانائی کے سنگین بحران سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ وفاق کو بھی خطرے میں ڈالنے کے ذمہ دار ہیں، اِس لئے آئین کے آرٹیکل 47 کے تحت اُن کا مواخذہ کیا جائے گا۔ اِس سلسلے میں آئندہ پیر کو، جو کہ اتفاق سے صدر پرویز مشرف کی سالگرہ کا بھی دن ہے، قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔

گذشتہ تین روز کے دوران مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ نون کے قائدین آصف علی زرداری اور نواز شریف کے درمیان مشرف کے حوالے سے مشترکہ مَوقِف اختیار کرنے کے سلسلے میں مذاکرات ہوتے رہے۔

Asif Ali Zardari trifft Nawaz Sharif in Islamabad, Pakistan

آصف زرداری اور نواز شریف اسلام آباد میں اپنے حالیہ مذاکرات کے دوران۔

نواز شریف، جنہیں مشرف نے 1999ء میں اقتدار سے محروم کر دیا تھا، چاہتے تھے کہ مشرف کو غداری کے الزام میں عدالت کا سامنا کرنا چاہیے جبکہ زرداری اِس تجویز کو رَد کرتے رہے۔

اپنے ممکنہ مواخذے کی خبریں منظرِ عام پر آنے کے بعد صدر مشرف نے اولمپک کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئےاپنا مجوزہ دَورہء چین منسوخ کر دیا ہے۔ اُن کی جگہ اب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بیجنگ جا رہے ہیں۔

اِس سے پہلے آج صبح وزیر اطلاعات شیری رحمان نے اعلان کیا تھا کہ صدر کے مواخذے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کے درمیان ساٹھ سے زیادہ معزورل ججوں کو بھی بحال کرنے پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ ہی میں یہ خبریں بھی تواتُر سے آ رہی تھیں کہ صدر کسی ممکنہ مواخذے کا ڈَٹ کر مقابلہ کریں گے اور وہ ممکنہ طور پر آئین کی دفعہ اٹھاون دو بی کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے موجودہ اسمبلیاں تحلیل بھی کر سکتے ہیں۔ آج نواز شریف نے صدر کو ایسا کوئی اقدام کرنے سے باز رہنے کے لئے کہا۔ نواز شریف کے مطابق اب ملک نہ تو کسی نئے مارشل لاء کا اور نہ ہی اٹھاون دو بی کے استعمال کا متحمل ہو سکتا ہے۔

صدر کے مواخذے کے لئے مخلوط حکومت کو دو تہائی اراکینِ اسمبلی کی حمایت درکار ہو گی، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اتنی اکثریت مشکل ہی سے میسر آ سکے گی۔ آصف علی زرداری نے البتہ اِس اُمید کا اظہار کیا کہ 90 فیصد اراکینِ اسمبلی اُن کے اِس اقدام کی حمایت کریں گے۔