1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’صدر نہیں بننا چاہتا تھا‘: نیلسن منڈیلا

منگل کو ’’اپنے ساتھ گفتگو‘‘ کے عنوان سے ایک نئی کتاب شائع ہو رہی ہے، جس میں جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والی عظیم شخصیت نیلسن منڈیلا نے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی ملک کے صدر نہیں بننا چاہتے تھے۔

default

’اپنے ساتھ گفتگو‘ کا جرمن ورژن

منڈیلا کے مطابق اُن کی ترجیح یہ تھی کہ کسی قدرے نوجوان شخص کو جنوبی افریقہ کا پہلا سیاہ فام حکمران بنایا جائے۔ منڈیلا لکھتے ہیں، اُنہوں نے محض افریقی نیشنل کانگریس کے سینئر رہنماؤں کی طرف سے دباؤ کے پیشِ نظر یہ عہدہ قبول کیا تھا۔ منڈیلا کے مطابق ’ری پبلک آف جنوبی افریقہ کے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے پہلے صدر کے عہدے پر میری تقرری میرے مشورے کے برخلاف مجھ پر مسلط کی گئی تھی‘۔

نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن کی مرتب کردہ یہ کتاب اِس جنوبی افریقی سیاستدان کے ذاتی خطوط، انٹرویوز اور اُس کی سوانح عمری کے اُن مزید ابواب پر مشتمل ہے، جو ابھی کہیں بھی شائع نہیں ہوئے۔ اِس کتاب کا مقدمہ امریکی صدر باراک اوباما نے تحریر کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے، جو اپنے نظریے کے لئے جان تک بھی قربان کرنے کو تیار تھا۔

بانوے سالہ منڈیلا کے مطابق وہ اِس بات کو ترجیح دیتے کہ اے این سی یا حکومت میں کوئی بھی عہدہ لئے بغیر نئی جنوبی افریقی مملکت کی خدمت کریں۔ پھر لیکن اے این سی کے لیڈروں کے بہت زیادہ دباؤ پر اُنہوں نے اپنا مؤقف تبدیل کیا لیکن ساتھ ہی یہ بات واضح بھی کر دی کہ وہ محض پانچ سال تک کے لئے ہی اِس عہدے پر کام کریں گے۔

منڈیلا کو ستائیس برس تک جیل میں رکھنے کے بعد گیارہ فروری 1990ء کو رہا کیا گیا تھا۔ اُن کی رہائی ملک میں ایک باقاعدہ جمہوری عمل کے آغاز کا باعث بنی۔ 1994ء میں وہ تاریخی انتخابات ہوئے، جن میں پہلی مرتبہ ہر رنگ و نسل کے شہریوں نے حصہ لیا اور منڈیلا نے ملک کے پہلے سیاہ فام صدر کے طور پر اپنا عہدہ سنبھالا۔

Flash-Galerie Nelson Mandela

منڈیلا بوسٹن میں تاریخی خطاب کرتے ہوئے، 23جون سن 1990ء

منڈیلا نے صدر کے طور پر مئی 1999ء تک کام کیا۔ اُن کے عہدِ صدارت میں ملک کے سیاہ اور سفید فام طبقات کے درمیان مفاہمت کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔ تاہم آج شائع ہونے والی نئی کتاب کے ایک اہم موضوع کا تعلق اُن اثرات سے بھی ہے، جو اُن کے جیل جانے سے اُن کے اہلِ خانہ پر مرتب ہوئے۔ اِس کتاب سے منڈیلا کی حسِ مزاح بھی کھُل کر سامنے آتی ہے۔

کتاب کے آخر میں منڈیلا لکھتے ہیں کہ جن دنوں وہ جیل میں تھے، وہ اِس بات پر پریشان ہوا کرتے تھے کہ جیل سے باہر لوگوں کے ذہنوں میں اُن کے بارے میں ایک غلط تصور پایا جاتا ہے اور ا‌ُنہیں سینٹ کی طرح کی کوئی مقدس شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ کبھی بھی کوئی ولی یا سینٹ نہیں تھے۔

رپورٹ: امجد علی / خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM