1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صدر مبارک نے اپنا نائب نامزد کردیا

مصری صدر حسنی مبارک نے اپنے 30 سالہ اقتدار میں پہلی بار نائب صدر نامزد کردیا ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق انٹیلی جنس چیف عمر سلیمان نے نائب صدر کا حلف اٹھالیا ہے۔

default

مصری عوام صدر حسنی مبارک کی یقین دہانیوں کے باوجود سراپا احتجاج ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق پانچ روزہ احتجاج میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نوے سے تجاوز کر گئی ہے۔

مصر میں بظاہر تیونس کے انقلابِ یاسمین سے متاثرہ احتجاجی سلسلے میں پانچویں روز شدت بڑھتی جارہی ہے۔ حسنی مبارک کے تین دہائیوں سے جاری اقتدار کے خلاف احتجاج کے دوران کم از 78 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعدد نوے سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ ایک ہزار کے قریب زخمی ہیں۔

دارالحکومت قاہرہ میں کرفیو کے باوجود احتجاج، لوٹ مار اور جلاؤ گھیراؤ کی اطلاعات ہیں۔ قاہرہ کے ایک چوک ’تحریر‘ پر ہفتہ کو بھی ہزاروں کا مجمع رہا جو صدر مبارک سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ مصر کے دیگر بڑے شہروں سوئز اور اسکندریہ سے بھی اسی نوعیت کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔

Proteste in Ägypten NO FLASH

قاہرہ میں ایک مظاہرے کا منظر

صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے امریکی صدر نے اپنے مصری ہم منصب کو ٹیلی فون کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر اوباما نے صدر مبارک پر زور دیا کہ وہ مظاہرین کے پر امن احتجاج کے حق کو تسلیم کریں اور اپنے قول کے مطابق ملک میں اصلاحات نافذ کریں۔

اس شمال افریقی ملک کے صدر حسنی مبارک کابینہ کو تحلیل کرکے ملک میں اصلاحات کے نفاذ کا اعلان کرچکے ہیں تاہم اس اعلان کو بظاہر پزیرائی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ مبارک کے حکم پر دارالحکومت قاہرہ میں فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔

قاہرہ میں فوج کی تعیناتی سے یہ اندازے لگائے جارہے ہیں کہ صدر مبارک کو اب بھی ملک کے اس سب سے قوی شعبے کی معاونت حاصل ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ قاہرہ میں فوج کی آمد کے بعد مواصلات کا نظام بحال کردیا گیا ہے اور سڑکوں پر ٹریفک بھی رواں ہوگیا ہے۔

US-Präsident Barack Obama und der ägyptische Präsident Hosni Mubarak

مصری صدر دورہ ء واشنگٹن میں امریکی صدر کے ہمراہ، فائل فوٹو

گزشتہ شب قوم سے خطاب میں صدر مبارک کا کہنا تھا کہ نجی اور سرکای املاک کو نذرآتش کرنے سے ’مصر اور اس کے بیٹوں‘ کے خواب شرمندہ ء تعبیر نہیں ہوں گے، اس کے لیے مذاکرات، مکالمے اور شعور کی ضرورت ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے مظاہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ بیشتر صدر مبارک کی جانب سے کابینہ تحلیل کرنے کو علامتی عمل تصور کر رہے ہیں اور صدر مبارک سے اقتدار چھوڑنے کے مطالبے پر قائم ہیں۔

مصر میں اب سے پہلے اس قسم کا احتجاج نہیں دیکھا گیا۔ موجودہ بحران کے سبب عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں پر بھی اثر نمایاں ہے۔ تیونس کے بعد مصر کا حال دیکھ کر مشرقی وسطیٰ کی اُن دیگر مقتدر حلقوں میں بھی بے چینی پیدا ہوئی ہے جو طویل عرصے سے آمرانہ طرز کی حکومت کر رہے ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : افسر اعوان

DW.COM