1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صدر عمر البشیر انتخابات میں فتح یاب قرار

پیر کے روز سوڈانی صدر عمر البشیر کو ملک میں گزشتہ دو دہائیوں میں پہلی مرتبہ ہونے والے کثیرالجماعتی انتخابات کا فاتح قرار دے دیا گیا ہے۔ انہیں ساٹھ فیصد سے زائد ووٹ ملے۔

default

صدر بشیر جو اس سے قبل مغربی دنیا کے ساتھ کشیدہ تعلقات رکھے ہوئے تھے، اپنے انتخاب کے فوری بعد جاری کردہ بیان میں کہا کہ وہ دارفور میں قیام امن کے لئے مغربی دنیا کے حمایت یافتہ منصوبے پر عمل دارآمد کی بھرپور کوشش کریں گے۔ دارفور میں گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری خانہ جنگی میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور اسی حوالے سے دی ہیگ میں قائم جرائم کی بین الاقوامی عدالت نے صدر عمر البشیر کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کر رکھے ہیں۔

پچھلے 21 برسوں سے اقتدار پر قابض صدر عمرالبشیر کی فتح پر اپوزیشن جماعتوں کے بائیکاٹ، دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں اور غیر معیاری انتخابات جیسے الزامات کے سائے پڑے ہوئے ہیں۔

Sudan Wahlen 2010

سوڈان کے قومی الیکشن کمیشن NEC کے چیئرمین ایبل علیئر نے پیر کے روز صدر عمر البیشر کی انتخابی فتح کا اعلان کیا۔

’’صدارتی انتخابات کے فاتح نیشنل کانگریس پارٹی کے امیدوار عمر حسن احمد البشیر ہیں۔ انہوں نے 69 لاکھ ایک ہزار چھ سو چورانوے ووٹ لئے جو 68 فیصد بنتے ہیں۔‘‘

دوسری جانب نیم خودمختار جنوبی سوڈان میں علاقائی سطح کے صدارتی انتخابات میں سابقہ باغی گروپ سوڈان پیپلز لیبریشن موومنٹ SPLM کے رہنما Salva Kiir کو بھی کامیاب قرار دے دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق Salva Kiir کو مجموعی طور پر 92 اعشاریہ نو فیصد ووٹ ملے۔ ان کو ملنے والے ووٹوں کی مجموعی تعداد 26 لاکھ 16 ہزار چھ سو تیرہ ہے۔

Salva Kiir نے صدر عمرالبشیر کے مدمقابل قومی سطح کے صدارتی الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم وہ جنوبی سوڈان کی خودمختاری کے لئے اگلے برس ہونے والے متوقع ریفرینڈم کے حامی ہیں۔ 2005ء میں اس باغی تنظیم اور حکومت کے درمیان طے پونے والے تاریخی معاہدے کے تحت 2011ء میں جنوبی سوڈان میں ریفرینڈم ہوگا۔

عمر البیشر نے انتخاب کے بعد ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں سوڈانی عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ پوری قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ جنوبی سوڈان میں خودمختاری کے حوالے سے ریفرینڈم طے شدہ اعلان کے مطابق ہو گا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عابد حسین

DW.COM