1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صدر زرداری کی لائن الطاف حسین سے مل گئی

کراچی میں گزشتہ دو روز سے جاری سیاسی سرگرمیوں کا نتیجہ نکلتا ہوا نظر آرہا ہے۔ رحمان ملک ایک مرتبہ پھر اتحادی جماعت ایم کیو ایم کو منانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

default

گزشتہ رات صدارتی کیمپ بلاول ہاﺅس، گورنرہاﺅس اور عزیز آباد میں ایم کیو ایم کا ہیڈ کوارٹر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنے رہے۔ وفاقی وزیر داخلہ کبھی بلاول ہاﺅس اور کبھی گورنر ہاﺅس کے چکر ساری رات لگاتے رہے، جس کے بعد سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد اور آصف علی زرداری کے درمیان با مقصد ملاقات کا اہتمام ہوسکا۔ اس ملاقات میں وزیر داخلہ کے علاوہ وزیر قانون بابر اعوان، صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپوراور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ بھی شریک رہے۔ ملاقات کے بعد صدر زرداری اور لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے درمیان طویل گفتگو ہوئی، جس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے چہرے پر پھیلی ہوئی مسکراہٹ اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ رحمان ملک ایک مرتبہ پھر اتحادی جماعت ایم کیو ایم کو منانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

Pakistan Innenminister Rehman Malik Pressekonferenz in Islamabad

رحمان ملک ایک مرتبہ پھر ایم کیو ایم کو منانے میں کامیاب ہوگئے ہیں

باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ صدر زرداری نے اپنے مہتمم ساتھی اور سندھ کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو ایم کیو ایم کے خلاف سخت بیان دینے سے روکا تھا، مگر انہوں نے صدر کی ہدایت کے خلاف ایم کیو ایم پر سنگین الزامات عائد کئے، جس کی نتیجے میں متحدہ قومی موومنٹ نے پہلے مرحلے میں وفاقی وزارتوں سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ بےنظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر صدر زرداری نے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے ذریعے ایم کیو ایم کو یہ پیغام بھیجا تھا کہ وہ صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کی وزارت تبدیل کردیں گے، لیکن انہیں اس فیصلے کے لیے کوئی مناسب وقت درکار ہوگا۔

دوسری طرف ایم کیو ایم اب حکومت کے کسی وعدے پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھی، جس کے بعد صدر زرداری نے سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد سے دو ملاقاتیں کیں اور ایم کیو ایم کی تمام شکایتوں کا ازالہ کرنے کی واضح یقین دہانی کرائی۔ یہ یقین دہانی ایم کیو ایم کے تین مطالبات پر مبنی ہے، جن میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے قلمدان کی تبدیلی، سندھ میں کمشنری نظام بحال نہ کرنے اور ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی کے صوابدیدی فنڈ کے اجراء جیسے وعدے شامل ہیں۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ صدر زرداری اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے درمیان گزشتہ رات ہونے والی گفتگو میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کسی بھی فیصلے سے یہ تاثر نہیں دے گی کہ کس فریق یا حکومت کی پسپائی ہوئی ہے۔؟ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے درمیان تلخ بیانات اور ذاتیات پر حملوں کی مہم کا فائدہ صرف اور صرف پیپلز پارٹی کو پہنچا ہے۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM