1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صدر بنتے ہی غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کروں گا، ٹرمپ

امریکی ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں وہ فوری طور پر امریکا سے غیر قانونی مہاجرین کو ملک بدر کرنے کے عمل کا آغاز کر دیں گے۔

ٹرمپ نے موجودہ صدر باراک اوباما کی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے ہزاروں کی تعداد میں مجرمانہ پس منظر رکھنے والے تارکین وطن کو جیلوں سے رہا کیا ہے۔

آئندہ نومبر کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کا مقابلہ ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن سے ہوگا۔ نیا امریکی صدر اگلے برس بیس جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا ہفتہ ستائیس اگست کے روز ریاست آئیووا میں ایک اجتماع سے خطاب کے دوران مزید کہنا تھا، ’’ایک دن میں سہولت سے مجرم غیر قانونی تارکین وطن کو ملک سے نکال دوں گا۔ ان کو بھی جنہیں صدر اوباما اور ہلیری کلنٹن نے آزاد چھوڑ دیا ہے۔‘‘

اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ وہ تارکین وطن کو امریکا سے نکالنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کریں گے، ٹرمپ نے بتایا کہ وہ ایک ایسا ’نگرانی کا ادارہ‘ قائم کریں گے جو الیکٹرانک طریقوں سے اس بات کو یقینی بنائے گا کہ غیر قانونی تارکین وطن اور غیر قانونی مہاجرین ریاست سے کوئی مراعات حاصل نہ کر سکیں۔

’’اگر ہم ویزے کے اختتام کی تاریخ ملحوظ نہیں رکھیں گے تو یہ مت بھولیے گا کہ ہماری سرحدیں تو کھلی ہوئی ہیں۔ یہ ایک سادہ سی بات ہے۔‘‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے اب تک چند ہی ایسی تجاویز دی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی تارکین وطن سے متعلق پالیس کا اطلاق کس طریقے سے کریں گے۔ ایک مرتبہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ میکسیکو کی امریکا کے ساتھ سرحد پر باڑ لگا دیں گے۔ ان کے اس بیان پر میکسیکو سے تعلق رکھنے والے امریکیوں نے شدید تنقید کی تھی۔

ٹرمپ کا موقف ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کی وجہ سے امریکا میں مقامی باشندوں کو نوکریوں کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وہ کہتے ہیں، ’’ہر دفعہ جب کوئی افریقی نژاد امریکی یا پھر کوئی اور امریکی شہری کسی غیر قانونی تارک وطن کی وجہ سے نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، تو امریکا کے آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔‘‘

دوسری جانب ٹرمپ کی حریف ہلیری کلنٹن اس طرح کی پابندیوں کے خلاف ہیں اور وہ اس حوالے سے ایک لبرل پالیسی رکھتی ہیں۔ جہاں ٹرمپ کئی بار مسلمان انتہا پسندوں کو حوالہ بنا کر تمام امریکی مسلمانوں پر نظر رکھنے کی بات کرتے ہیں وہاں کلنٹن اس عمل کو ناجائز قرار دے کر امریکی مسلمانوں کی ملک کے لیے خدمات کا دفاع کرتی ہیں۔