1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صدر بش کا عراق سے فوجی واپس بلانے کا فیصلہ

امریکی صدر جورج ڈبلیو بُش نے اپنے ہم وطنوں کے نام ٹیلی وژن خطاب میں سالِ رواں کے اواخر تک عراق سے 5,700 امریکی فوجی واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فوجی تیس ہزار فوجیوں پر مشتمل اُس یونٹ کا حصہ ہیں، جسے بُش نے اِس سال جنوری میں اضافی طور پر عراق بھیجا تھا۔ اِس طرح بُش بڑی حد تک عراق میں امریکی اَفوج کے کمانڈر اِن چیف ڈیوڈ پیٹرئس کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں۔

امریکی صدر جورج ڈبلیو بُش اورعراق میں امریکی اَفوج کے کمانڈر اِن چیف ڈیوڈ پیٹرئس

امریکی صدر جورج ڈبلیو بُش اورعراق میں امریکی اَفوج کے کمانڈر اِن چیف ڈیوڈ پیٹرئس

پیٹرئس نے اِسی ہفتے کے اوائل میں امریکی کانگریس کو تجویز پیش کی تھی کہ اگلے سال جولائی تک تیس ہزار امریکی فوجیوں کو عراق سے واپس بلایا جا سکتا ہے۔

اُدھر عراقی شہر رمادی کے قریب ایک بم حملے میں امریکی اورعراقی حکومتوں کا ایک کلیدی اہمیت کا حامل سنی حلیف مارا گیا ہے۔ عبدالستار ابو رِیشہ سنی عرب قبائل کے اُس اتحاد کے سربراہ تھے، جس نے مغربی صحرائی صوبے اَنبار کے وسیع تر حصے سے القاعدہ کے مزاحمت کاروں کو مار بھگانے میں امریکی دَستوں کی مدد کی تھی۔ پولیس کے مطابق سڑک کے کنارے نصب بم کے اِس دھماکے میں ابو رِیشہ کے دو محافظ اور پرائیویٹ سیکیرٹری بھی ہلاک ہوگیا۔

ابھی دو ہفتے پہلے امریکی صدر بُش نے اَنبار میں ابو ریشہ اور اُس کے قبائل کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ اب ابو رِیشہ کے انتقال پر بش نے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے اور اُس کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔