1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صدر بش مشرق وسطیٰ کے پہلے دورے پر

امریکی صدر بش اپنے اولین دورہ مشرق وسطیٰ کے آغاز پر اسرائیل پہنچ گئے ہیں جہاں اپنی آمد کے بعد انہوں نے کہا کہ انہیں اس دورے پر واقعی بہت خوشی ہے جس کا مقصد دیگر امور کے علاوہ قیام امن کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔

default

امریکی صدر اپنے اس آٹھ روزہ دورے کے دوران بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ تاہم مشرق وسطیٰ کے امور پر نگاہ رکھنے والے ماہرین کے مطابق اس سلسلے میں انہوں نے بہت دیر کر دی ہے ۔ جارج ڈبلیو بش گذشتہ سات سال سے امریکہ میں صدر کے عہدے پر فائز ہیں لیکن اپنا مشرق وسطیٰ یا اسرائیل کا پہلا دورہ وہ اب کر رہے ہیں۔

واشنگٹن میں Brooking Institute کے ایک ماہر Bruce Riedel کہتے ہیں کہ یہ ایک حیران کن بات ہے کہ امریکی صدر سات سال تک صدارتی منصب پر فائز رہنے کے بعداسرائیل کا پہلا دورہ اب کررہے ہیں۔ Riedel کے مطابق اب جب کہ وائٹ ہاوس میں ان کا بمشکل ایک سال باقی رہ گیا ہے، وہ اس دورے پر نکلے ہیں ۔ انہوں نے صدر بش کے بارے میں کہا کہ اب تو ان کے نائب ڈک چینی بھی الیکشن لڑ کر ان کی جگہ لینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

امریکی نائب صدر ڈک چینی مشرق وسطیٰ میں امن کوششوں کو لاحاصل سمجھتے ہیں ۔ یہ تو وزیر خارجہ کنڈولیزارائس کی ہمت اور کوشش تھی کہ صدر بش اس تنازعے کے حل میں کوئی کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہوئے ۔ چنانچہ گذشتہ برس نومبر میں Annapolis کانفرنس کا اہتمام کیا گیا اور اب جارج ڈبلیو بش خطے کے ایک تفصیلی دورے پر نکلے ہیں ۔ وہ شروع سے ہی اس پیچیدہ تنازعے سے دور رہنا چاہتے تھے کیونکہ ان سے قبل بل کلنٹن بھی جولائی 2002 میں اپنی کیمپ ڈیوڈ میں کی گئی امن کوششوں میں ناکام ہوگئے تھے۔

Riedel کے خیال میں صدر بش کا اب ہی سہی، لیکن اس علاقے کا دورہ ایک حوالے سے مثبت بھی ہے۔ ان کے بقول اگر قیام امن کے عمل کو تنازعے کے فریقین کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے تو یہ عمل جمود کا شکار ہو کر ناکام ہو جائے گا ۔ اس لئے امن کوششوں کی امریکی نگرانی بہت اہمیت رکھتی ہے۔

گذشتہ برسوں کے تجربات نے واضح کر دکھایا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں امریکہ کے بغیر شاید ہی کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے ۔ عین ممکن ہے کہ صدر بش جو اب تک مکمل طور پر اسرائیل کی پشت پناہی کرتے رہے ہیں ، اب اسرائیلی وزیر ِاعظم ایہود اولمیرٹ کو یہودی بستیوں کے بارے میں نئی سوچ اپنانے پر رضامند کر لیں ۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ اولمیرٹ اور فلسطینی صدر عباس دونوں ہی سیاسی لحاظ سے کمزوررہنما ہیں اور خودصدر بش بہت سے عرب ملکوں میں انتہائی ناپسندیدہ لیڈر تصور کئے جاتے ہیں۔

بہرحال جارج ڈبلیو بش امن کوششوں کو اس قدر آگے ضرور بڑھانا چاہتے ہیں کہ اگلے سال واشنگٹن میں ان کی جگہ لینے والا نیا صدراس میں مزید پیش رفت کی کوششیں کر سکے ۔