1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صدر بش: عراق میں حکمت عملی تبدیل ہو سکتی ہے

مبصرین کا کہنا ہے کہ مقتدا صدر کی طرف سے عمارہ میں وفد روانہ کرنے کا اقدام اس بات کی دلیل ہو سکتی ہے کہ یہ لڑائی ان کے حکم پر نہیں شروع کی گئی بلکہ ایک مقامی نوعیت کا مسئلہ تھا اوران کی مقامی فورس نے ان سے پوچھے بغیر اس قسم کی کاروائی کی تھی۔

default

امریکی صدر بش نے کہا ہے کہ وہ عراق میں تشدد کے واقعات کو روکنے کے لئے طریقہ کار میں ہر ممکنہ تبدیلی لانے کے لئے تیار ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ بغداد میں امن و استحکام قائم کرنے کے لئے بنائی گئی حکمت عملی پر پوری طرح سے عمل نہیں ہوا ہے۔

صدر بش نے کہا ان تمام چیزوں کے باوجود وہ عراقی حکومت کو بااختیار بنانے کے لئے اپنی کوششیں ترک نہیں کریں گے۔ صدر بش نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ماہ رمضان کے پہلے ہفتے میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔اور حالیہ چند ہفتے امریکی فوج اور عراقی عوام کے لئے بہت بھاری ثابت ہوئے ہیں۔

واضح رہے صدر بش پر اس وقت دونوں جماعتوں کے اراکین کانگرس کی طرف سے عراق کے سلسلے میں اپنی پالیسی میں بنیادی تبدیلی لانے کے لئے دباؤ‎ بڑھتا جا رہا ہے۔

دوسری طرف آج عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے نمائندے نے مقتدا صدر اور عراقی پولیس کے درمیان شدید لڑائی کے بعد شہر میں موجود کشیدگی کو کم کرنے کے لئے عمارہ میں قبائلی رہنماؤ‎ں سے ملاقات کی ہے۔

نوری المالکی کی طرف سے عمارہ میں بھیجے جانے والے قومی سلامتی کے وزیر شروان الوائلی کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو روز سے جاری لڑائی کی اس آگ کو قبائلی گروپوںکی طرف سے بھڑکایا گیا تھا۔

شیعہ رہنما مقتدا صدرکی فورس اور عراقی پولیس کے درمیان لڑائی کا آغاز علاقے میں پولیس کے سربراہ کے قتل کے بعد ہواجس کے فورا بعد پولیس نے مقتدا صدر کے افراد کو گرفتار کر لیا ۔جوابی کاروائی کے طور پر مقتدا صدر کی آرمی نے پولیس اسٹیشن پر راکٹوں ، دستی بموں اور رائفلوں سے حملہ کر دیا۔

تازہ اطلاعات کے مطابق مقتداا صدر نے بھی امن و امان قائم رکھنے کا مطالبہ کیا ہے اور عمارہ میں حالات کو قابو میں رکھنے کے لئے اپنا ایک وفد روانہ کیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مقتدا صدر کی طرف سے عمارہ میں وفد روانہ کرنے کا اقدام اس بات کی دلیل ہو سکتی ہے کہ یہ لڑائی ان کے حکم پر نہیں شروع کی گئی بلکہ ایک مقامی نوعیت کا مسئلہ تھا اوران کی مقامی فورس نے ان سے پوچھے بغیر اس قسم کی کاروائی کی تھی۔

مقتدا صدر نے چند روز قبل ہی وزیر اعظم نوری المالکی سے ملاقات کی تھی اور کہا جا رہا ہے کہ وہ ان کے اتحادی کے طور پر یہ نہیں چاہتے کہ ان کے نام پر لیکن ان کی اجازت کے بغیر شروع ہونے والے تشدد کی وجہ سے ان کا امیج خراب