1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صدر ایردوآن کے لیے ’تحفہ‘، ترک اساتذہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم

پاکستان نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے مخالف لیڈر فتح اللہ گولن کی تنظیم کے پاکستان میں قائم اسکولوں کے ترک اساتذہ اور ان کے اہلخانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ ترک صدر آج سے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے مخالف مذہبی لیڈر فتح اللہ گولن کے ’حمایت یافتہ اسکولوں‘ کے ترک اساتذہ اور ان کے اہلخانہ کو تین دن کے اندر اندر پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ پاک ترک انٹرنیشنل اسکول اینڈ کالجز کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ان ترک شہریوں کی تعداد تقریباﹰ 450 بنتی ہے۔

پاک ترک اسکول سسٹم کے تحت پاکستان میں 10 ہزار سے زائد طالب علموں کو تعلیم فراہم کی جا رہی ہے اور یہ انتظامیہ مکمل طور پر اس بات سے انکار کرتی ہے کہ ان کا فتح اللہ گولن یا گولن تحریک سے کوئی تعلق ہے۔

فتح اللہ گولن ماضی میں صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھی رہ چکے ہیں لیکن صدر ایردوآن کا کہنا ہے کہ چند ماہ پہلے ہونے والی فوجی بغاوت کے پیچھے فتح اللہ گولن کا ہاتھ تھا۔ پاک ترک اسکولوں کی انتظامیہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، ’’پاک ترک انٹرنیشنل اسکولز اینڈ کالجز حکومت کے اس اچانک فیصلے سے متعلق شدید تشویش میں ہے، جس میں ترک اساتذہ، انتظامیہ کے اہلکاروں اور ان کے اہلخانہ کو ملک سے تین دن کے اندر نکل جانے کا کہا گیا ہے۔‘‘

جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم اس وجہ سے دیا گیا ہے کہ ان کے ویزوں میں توسیع کے لیے دی گئی درخواستوں کو منظور نہیں کیا گیا۔ پاکستانی وزارت داخلہ نے اس حکم نامے پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

دوسری جانب انقرہ سے اسلام آباد روانگی سے پہلے ترک صدر نے پاکستان حکومت کے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’پاکستان حکومت کی طرف سے گولن تحریک کے اہلکاروں کو ملک چھوڑنے دینے کا حکم خوش آئند ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’ترکی کی طرح پاکستان بھی دہشت گردی کے خلاف مسلسل لڑ رہا ہے۔ ترکی پاکستان کی اس جنگ کے اختتام تک اس کی حمایت جاری رکھے گا۔‘‘

ترک صدر جمعرات کو پاکستانی پارلیمان سے بھی خطاب کریں گے۔ پاکستان اور ترکی میں روایتی طور پر قریبی تعلقات پائے جاتے ہیں جبکہ صدر ایردوآن اور نواز حکومت نے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات مزید مضبوط بنائے ہیں۔

گولن تحریک دنیا کے ایک سو ساٹھ ملکوں میں تقریباﹰ دو ہزار تعلیمی ادارے قائم کر چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان اسکولوں کے اسٹاف اور ان کے اہلخانہ کو ملک بدر کرنے کا پاکستانی حکم نامہ صدر ایردوآن کے لیے ایک ’تحفہ‘ ہے۔